بنگلہ دیش کے ہاتھوں شرمناک شکست پر کامران اکمل برہم، پاکستان کرکٹ کے زوال کی اصل وجوہات بتا دیں
پاکستان کرکٹ کا زوال: کامران اکمل کی شدید مایوسی
بنگلہ دیش کے ہاتھوں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کا سامنا کرنے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم شدید تنقید کی زد میں ہے۔ سابق ٹیسٹ وکٹ کیپر کامران اکمل نے نہ صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی بلکہ پاکستان کرکٹ کے مجموعی ڈھانچے کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیم کی یہ شکست محض ایک اتفاق نہیں بلکہ برسوں سے جاری غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے۔
شرمناک شکست اور زمینی حقائق
پاکستان کو بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں 78 رنز سے شکست ہوئی، جس کے بعد سیریز کا اختتام 0-2 سے پاکستان کے حق میں خراب رہا۔ اس سے قبل پہلے ٹیسٹ میں بھی پاکستان کو 104 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کامران اکمل نے اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے بنگلہ دیشی ٹیم کی ہمت اور ان کے کرکٹ کے بنیادی اصولوں پر قائم رہنے کی تعریف کی، جبکہ اپنی ٹیم کے لیے سخت الفاظ کا چناؤ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود جس طرح کرکٹ کھیلی، وہ قابل تعریف ہے۔ لیکن ہماری ٹیم کے لیے اب شرمندگی کے سوا کچھ نہیں بچا۔ پچھلے چھ سات سالوں سے ہم ایک ہی طرح کی باتیں کر رہے ہیں اور حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی۔’
کرکٹ سے نابلد افراد اور انا کا مسئلہ
کامران اکمل نے پاکستان کرکٹ کے انتظامی امور پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جب کرکٹ کا علم نہ رکھنے والے افراد فیصلے کرتے ہیں اور ان کی انا ٹیم پر حاوی ہو جاتی ہے، تو کھیل کبھی بہتر نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق، ‘جب آپ میرٹ کو چھوڑ کر پسند ناپسند اور سفارش پر ٹیم بناتے ہیں، تو مہارت اور صلاحیت صفر ہو جاتی ہے۔ یہاں نہ کوئی جوابدہی ہے اور نہ ہی کارکردگی کا کوئی معیار۔’
کھلاڑیوں کا رویہ اور فٹنس کا دوہرا معیار
سابق وکٹ کیپر نے پی ایس ایل اور قومی ٹیم کے لیے کھلاڑیوں کے مختلف رویوں پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کے دوران کوئی کھلاڑی ان فٹ نہیں ہوتا، مگر ڈومیسٹک سیزن شروع ہوتے ہی فٹنس کے مسائل سامنے آ جاتے ہیں۔ انہوں نے کھلاڑیوں کی جانب سے دی جانے والی فٹنس ٹیسٹ کی چھوٹی چھوٹی وجوہات کو بنیاد بنا کر ان کے کیریئر ختم کرنے کی پالیسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ ‘اگر کوئی کھلاڑی ایک جمپ یا دو کلومیٹر کی دوڑ میں چند سیکنڈز پیچھے رہ جائے تو آپ اس کا کیریئر ختم کر دیتے ہیں، جبکہ وہ کھلاڑی میدان میں 200 رنز اور 18 اوورز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ پہلے اپنی فٹنس اور فیصلوں کو تو دیکھیں۔’
بھارت کی مثال اور مستقبل کی پیشگوئی
کامران اکمل نے بھارتی کرکٹ بورڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں چیتیشور پجارا، اجنکیا رہانے اور شیکھر دھون جیسے بڑے کھلاڑیوں کو بھی ٹیم سے باہر کیا گیا کیونکہ وہاں ‘ٹیم اور کھیل’ کو دوستی سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے ان کا موقف انتہائی مایوس کن ہے: ‘عملی طور پر، میں اگلے چار پانچ سال تک بہتری کی کوئی امید نہیں دیکھتا۔ جب تک بڑے اور مشکل فیصلے نہیں کیے جائیں گے، حالات ایسے ہی رہیں گے۔’
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پاکستان کی پوزیشن
بنگلہ دیش سے اس شکست کے بعد پاکستان پوائنٹس ٹیبل پر آٹھویں نمبر پر آ گیا ہے۔ پاکستان کے اگلے امتحانی دورے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف ہیں، اور جولائی 2023 سے اب تک پاکستان کوئی بھی غیر ملکی ٹیسٹ میچ جیتنے میں ناکام رہا ہے۔ قومی ٹیم کے لیے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل تک رسائی کے خواب اب تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔
