محمد کیف کا بی سی سی آئی پر تنقید: رشبھ پنت کو نائب کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ کیوں؟
کرکٹ سلیکشن پر سوالات: محمد کیف کا مؤقف
بھارتی کرکٹ ٹیم کے حالیہ اسکواڈ کے اعلانات کے بعد کرکٹ کے حلقوں میں بحث و مباحثہ جاری ہے۔ افغانستان کے خلاف ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کے لیے ٹیموں کے انتخاب کے ساتھ ہی کئی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جن میں سب سے نمایاں رشبھ پنت کو نائب کپتانی کے عہدے سے ہٹایا جانا ہے۔ اس فیصلے پر سابق بھارتی بلے باز محمد کیف نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
رشبھ پنت کے ساتھ زیادتی؟
محمد کیف کا ماننا ہے کہ رشبھ پنت نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی کارکردگی سے کسی کو مایوس نہیں کیا، لہذا انہیں نائب کپتانی سے ہٹانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ کیف کے مطابق، ون ڈے اور ٹیسٹ فارمیٹس بالکل الگ ہیں اور پنت کی ٹیسٹ کارکردگی شاندار رہی ہے۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو 2025 میں پنت نے 7 ٹیسٹ میچوں میں 629 رنز بنائے، جس میں دو سنچریاں اور چار نصف سنچریاں شامل ہیں، اور ان کی اوسط 48 رہی ہے۔
کیف نے مزید کہا کہ پنت کو ان کی آئی پی ایل کی کپتانی کی بنیاد پر جانچنا سراسر غلط ہے۔ ان کا کہنا ہے: “آئی پی ایل کی کارکردگی اور بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ کو آپس میں نہیں ملانا چاہیے۔ رشبھ پنت ٹیسٹ فارمیٹ میں بھارت کے سب سے بڑے میچ ونر ثابت ہوئے ہیں۔”
سلیکٹرز کی پالیسیوں میں تضاد
اس بحث کا ایک اور اہم پہلو محمد شامی کی عدم موجودگی ہے۔ تجربہ کار فاسٹ بولر کی شاندار کارکردگی کے باوجود انہیں ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا، جس پر چیئرمین سلیکٹرز اجیت اگرکر نے طبی بنیادوں کا حوالہ دیا۔ تاہم، محمد کیف نے اس معاملے پر سلیکٹرز کی دوہری پالیسی کو ہدف تنقید بنایا۔
کیف نے سوال اٹھایا کہ اگر عمر کا حوالہ دے کر شامی کو ڈراپ کیا جا سکتا ہے، تو کے ایل راہول کو نائب کپتان کیوں بنایا گیا ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیم کے انتخاب میں مستقل مزاجی ہونی چاہیے۔ “سلیکٹرز کو عمر کے بجائے فارم کو ترجیح دینی چاہیے۔ اگر کوئی کھلاڑی رنز بنا رہا ہے یا وکٹیں لے رہا ہے، تو اسے ٹیم کا حصہ ہونا چاہیے۔”
ٹیم میں دیگر تبدیلیاں
افغانستان کے خلاف سیریز کے لیے شبمن گل کو دونوں فارمیٹس کی قیادت سونپی گئی ہے۔ ٹیسٹ میں کے ایل راہول اور ون ڈے میں شریاس آئیر کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، جسپریت بمراہ کو آرام دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے محمد سراج اور پرسدھ کرشنا نئی گیند کے ساتھ اٹیک سنبھالیں گے، جبکہ گورنور برار کو ڈیبیو کا موقع ملنے کا امکان ہے۔
کرکٹ کا مستقبل اور سلیکشن کے معیارات
محمد کیف کا یہ بیان ان بہت سے شائقین کی آواز ہے جو سمجھتے ہیں کہ قومی ٹیم میں کھلاڑیوں کی اہلیت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ پنت جیسے میچ ونر کو نائب کپتانی سے ہٹانا جہاں ایک طرف ٹیم کی قیادت کے مستقبل پر سوالات اٹھاتا ہے، وہیں یہ سلیکٹرز کے فیصلہ سازی کے عمل پر بھی شکوک پیدا کرتا ہے۔
آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بی سی سی آئی اپنے سلیکشن معیار میں کوئی تبدیلی لاتا ہے یا سابق کرکٹرز کی جانب سے اٹھائے گئے ان جائز سوالات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کرکٹ کی دنیا میں کارکردگی ہی سب سے بڑا پیمانہ ہونی چاہیے، نہ کہ کوئی اور بیرونی عوامل۔
