Cricket News

افغان مہاجر خواتین کرکٹ ٹیم: 2026 ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران انگلینڈ کا دورہ

Noor Fatima · · 1 min read
Share

افغان خواتین کرکٹرز کی کرکٹ کے میدانوں میں واپسی

2021 میں افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد جہاں بہت سی زندگیوں میں تبدیلیاں آئیں، وہیں افغان خواتین کھلاڑیوں کے خواب بھی بکھر کر رہ گئے تھے۔ تاہم، ان حالات کے باوجود، جلاوطن افغان خواتین کرکٹرز کی ایک ٹیم نے ہمت نہیں ہاری اور اب وہ 2026 ٹی 20 ورلڈ کپ کے موقع پر انگلینڈ کے دورے کے لیے تیار ہیں۔ یہ دورہ ان کھلاڑیوں کے لیے محض ایک کھیل نہیں، بلکہ اپنی شناخت اور اپنے حق کے لیے ایک جدوجہد ہے۔

انگلینڈ کا دورہ: نئی امیدوں کا آغاز

یہ دورہ 22 جون سے شروع ہو رہا ہے، جس میں تربیت کیمپ اور ٹی 20 میچز شامل ہوں گے۔ اس اقدام کو انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB)، میریلیبون کرکٹ کلب (MCC) اور MCC فاؤنڈیشن کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ‘ٹس گیم آن’ نامی اسپورٹس کنسلٹنسی بھی اس دورے کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کھلاڑی اس دورے کے دوران لارڈز میں ہونے والا ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ فائنل دیکھنے کی بھی متوقع ہیں۔

تاریخ کا پس منظر: 2020 سے 2021 تک کا سفر

سال 2020 میں افغان کرکٹ بورڈ نے خواتین کی کرکٹ کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے تھے۔ کابل میں ٹرائلز منعقد کیے گئے اور 25 خواتین کھلاڑیوں کو باقاعدہ معاہدے پیش کیے گئے۔ یہ ایک نئے دور کا آغاز تھا، لیکن 2021 میں سیاسی حالات نے اس سفر کو اچانک روک دیا۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین پر کھیلوں سمیت زندگی کے کئی شعبوں میں پابندیاں عائد کر دی گئیں، جس کے نتیجے میں افغان خواتین کی کرکٹ ٹیم کا مستقبل تاریک ہو گیا۔

بہت سی کھلاڑیوں کو جان بچانے کے لیے ملک چھوڑنا پڑا اور وہ اب دنیا کے مختلف حصوں، خاص طور پر آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ ان کے لیے کرکٹ ایک ایسی ڈور ہے جو انہیں اپنے وطن اور اپنے خوابوں سے جوڑے ہوئے ہے۔

مشکلات کے باوجود عزم کا سفر

ان برسوں کے دوران، افغان کھلاڑیوں نے ہر ممکن موقع پر کرکٹ سے اپنا تعلق برقرار رکھا ہے۔ اسی سال انہوں نے ‘کرکٹ ود آؤٹ بارڈرز’ کے خلاف ‘افغان ریفیوجی الیون’ کے نام سے میچ کھیلا۔ اس سے قبل، گزشتہ سال ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ کے دوران بھی یہ کھلاڑی بھارت کا دورہ کر چکی ہیں، جہاں انہوں نے تماشائیوں کے طور پر شرکت کی تھی۔ یہ دورے اس بات کی علامت ہیں کہ ان کا کھیل کے ساتھ جذبہ اب بھی زندہ ہے۔

عالمی برادری کی حمایت

اگرچہ آئی سی سی (ICC) نے ابھی تک افغان خواتین ٹیم کو جلاوطنی میں ایک باضابطہ ٹیم کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے، لیکن عالمی کرکٹ برادری کا تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ای سی بی کے حکام ان کھلاڑیوں کی استقامت کی تعریف کر رہے ہیں کہ انہوں نے ذاتی مشکلات کے باوجود اپنے کرکٹ کے سفر کو جاری رکھا ہوا ہے۔

یہ دورہ صرف کرکٹ کھیلنے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ ان خواتین کی شناخت کے تحفظ اور اس بات کے اظہار کے بارے میں ہے کہ ان کا کھیل کے لیے جنون وقت کی سختیوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ جب وہ میدان میں اتریں گی، تو یہ نہ صرف ان کی اپنی جیت ہوگی، بلکہ دنیا بھر کی ان تمام خواتین کے لیے ایک پیغام ہوگا جو حالات کی ستم ظریفی کے باوجود اپنے خوابوں کو ترک نہیں کرتیں۔

مستقبل کی توقعات

کرکٹ کی دنیا کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ان کھلاڑیوں کو مزید مواقع ملنے چاہئیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔ 2026 ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران ان کا یہ دورہ ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، جو مستقبل میں ان کے لیے مزید دروازے کھول سکتا ہے۔

Avatar photo
Noor Fatima

Noor Fatima covers detailed player profiles, career milestones, and cricket biographies.