IPL 2026: ایس بدری ناتھ نے ناقص کارکردگی کے باوجود سی ایس کے کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا
آئی پی ایل 2026 میں چنئی سپر کنگز کا سفر اور بدری ناتھ کا تجزیہ
چنئی سپر کنگز (CSK) کے لیے آئی پی ایل 2026 کا سیزن انتہائی مایوس کن رہا، جہاں پانچ بار کی فاتح ٹیم پلے آف تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ 14 میچوں میں سے صرف 6 میں کامیابی حاصل کرنے والی ٹیم کے لیے یہ سیزن مشکلات سے بھرپور تھا۔ تاہم، سابق بھارتی بلے باز ایس بدری ناتھ کا ماننا ہے کہ اس تاریک سیزن میں بھی کچھ ایسی روشنیاں موجود تھیں جنہوں نے شائقین کو متاثر کیا اور ٹیم کے لیے مستقبل کے امکانات روشن کیے۔
جیمی اوورٹن: ایک غیر متوقع ہیرو
بدری ناتھ نے خاص طور پر انگلش آل راؤنڈر جیمی اوورٹن کی کارکردگی کو سراہا۔ ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل، کسی کو توقع نہیں تھی کہ اوورٹن اتنی بڑی تاثیر چھوڑیں گے، لیکن انہوں نے خود کو سی ایس کے کے اہم ترین کھلاڑیوں میں شامل کر لیا۔ انہوں نے 10 میچوں میں 160 کے قریب اسٹرائیک ریٹ سے 136 رنز بنائے اور 14 وکٹیں حاصل کیں، جس سے وہ ایک بہترین آل راؤنڈر ثابت ہوئے۔ بدقسمتی سے، ران کی انجری کے باعث ان کا سیزن وقت سے پہلے ختم ہو گیا۔
ابھرتے ہوئے ستارے: انشل کمبوج اور عقیل حسین
بدری ناتھ نے نوجوان فاسٹ باؤلر انشل کمبوج اور عقیل حسین کی بھی تعریف کی۔ کمبوج نے اس سیزن میں غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور 14 میچوں میں 14 وکٹیں لے کر سی ایس کے کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی بنے۔ بدری ناتھ کے مطابق، کسی کو بھی یہ توقع نہیں تھی کہ وہ پرپل کیپ کی دوڑ میں شامل ہوں گے۔ اسی طرح عقیل حسین نے بھی 7 میچوں میں 9 وکٹیں لے کر اپنی افادیت ثابت کی، حالانکہ بدری ناتھ کا ماننا ہے کہ ان کا درست استعمال نہیں کیا گیا۔
بلے بازی کا شعبہ: سنجو سیمسن اور نوجوانوں کا عزم
سی ایس کے کی بلے بازی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے، بدری ناتھ نے سنجو سیمسن، آیوش مہترے اور اروی پٹیل کی تعریف کی۔ سنجو سیمسن ٹیم کے سب سے کامیاب بلے باز رہے اور 477 رنز کے ساتھ سرفہرست رہے۔ آیوش مہترے نے 177.88 کے اسٹرائیک ریٹ سے جارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا، جبکہ اروی پٹیل کو انہوں نے ٹیم کا ‘ایکس فیکٹر’ قرار دیا۔ بدری ناتھ کا ماننا ہے کہ اگرچہ پٹیل کبھی کبھی غیر محتاط نظر آتے ہیں، لیکن ان کے پاس میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت موجود ہے۔
چیلنجز اور مایوسیاں
جہاں کچھ کھلاڑیوں نے متاثر کیا، وہیں کچھ ناموں نے مایوس بھی کیا۔ ڈیوالڈ بریوس کا سیزن انتہائی خراب رہا اور وہ 8 اننگز میں صرف 151 رنز ہی بنا سکے۔ بدری ناتھ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ آیا انہیں صحیح پوزیشن پر کھلایا گیا یا نہیں۔ مزید برآں، ایم ایس دھونی کی مستقبل کے حوالے سے غیر واضح صورتحال کو بھی انہوں نے ٹیم کے لیے ایک منفی پہلو قرار دیا۔
مستقبل کی راہ
مجموعی طور پر، ایس بدری ناتھ کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ اگرچہ سی ایس کے کا 2026 کا سیزن ناکام رہا، لیکن ٹیم کے پاس ایسے باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں جن پر مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ ان کھلاڑیوں کی کارکردگی نے ثابت کیا ہے کہ صحیح مواقع ملنے پر یہ کھلاڑی میچ ونر بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
