Cricket News

سی ایس کے کی صورتحال پر بدری ناتھ کا سخت ردعمل: دھونی اور گائیکواڑ پر بڑے سوالات

Sameer Joshi · · 1 min read
Share

سی ایس کے کا بحرانی دور اور بدری ناتھ کے سوالات

چنئی سپر کنگز (CSK) کے لیے آئی پی ایل کا موجودہ سیزن انتہائی مشکل اور تنازعات سے بھرا رہا ہے۔ ٹیم اپنے آخری لیگ میچ میں گجرات ٹائٹنز کے مدمقابل ہے، جہاں انہیں پلے آف کی دوڑ میں برقرار رہنے کے لیے ایک بڑی فتح درکار ہے۔ تاہم، اس کھیل کے میدان سے ہٹ کر، ٹیم کے اندرونی معاملات اور انتظامی فیصلوں پر سابق بھارتی بلے باز سبرامنیم بدری ناتھ نے انتہائی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

ایم ایس دھونی کی انجری ڈرامہ

بدری ناتھ نے خاص طور پر ایم ایس دھونی کی فٹنس اور ان کی عدم دستیابی کے معاملے پر مینجمنٹ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ دھونی، جو اس سیزن میں انجری کے باعث زیادہ تر ایکشن سے دور رہے، ٹیم کے ساتھ احمد آباد کا سفر بھی نہیں کر رہے ہیں۔ بدری ناتھ کا کہنا ہے کہ ٹیم نے اس معاملے کو درست طریقے سے ہینڈل نہیں کیا اور مداحوں کو دھونی کی اصل صورتحال سے لاعلم رکھا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ سب کچھ صرف میچوں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے ایک کاروباری حکمت عملی تھی یا واقعی دھونی شدید انجری کا شکار تھے۔ ان کا ماننا ہے کہ فرنچائز کی جانب سے شفافیت کا فقدان شائقین اور ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

رتوراج گائیکواڑ کی کپتانی پر تحفظات

بدری ناتھ نے صرف دھونی ہی نہیں، بلکہ رتوراج گائیکواڑ کو کپتان مقرر کرنے کے فیصلے پر بھی کھل کر تنقید کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا دھونی خود گائیکواڑ کو اپنا جانشین بنانا چاہتے تھے یا یہ خالصتاً انتظامیہ کا فیصلہ تھا۔ بدری ناتھ کے مطابق، کپتانی کا فیصلہ مینجمنٹ کی ذمہ داری ہے اور انہیں اس کے نتائج کے لیے بھی جوابدہ ہونا چاہیے۔

رویندرا جڈیجہ بمقابلہ رتوراج گائیکواڑ

ایک چونکا دینے والے دعوے میں، سبرامنیم بدری ناتھ نے کہا ہے کہ ایم ایس دھونی ذاتی طور پر رتوراج گائیکواڑ کے بجائے رویندرا جڈیجہ کو کپتان کے طور پر ترجیح دیتے۔ یاد رہے کہ 2022 میں جڈیجہ کو کپتان بنایا گیا تھا لیکن ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد دوبارہ دھونی کو قیادت سنبھالنی پڑی تھی۔ بدری ناتھ کی رائے میں جڈیجہ کو قیادت کے معاملات میں نظر انداز کرنا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی اور منوج تیواری کے تبصرے

آئی پی ایل کے مستقبل کے سیزنز کے حوالے سے بھی بحث تیز ہو چکی ہے۔ منوج تیواری جیسے دیگر سابق کھلاڑیوں نے بھی چنئی سپر کنگز کی قیادت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ تیواری کا مشورہ ہے کہ ٹیم کو اب آگے دیکھنا چاہیے اور سنجو سیمسن جیسے کھلاڑیوں کو قیادت کی ذمہ داری دینے پر غور کرنا چاہیے تاکہ ٹیم کو دوبارہ ایک مضبوط بنیاد پر کھڑا کیا جا سکے۔

سی ایس کے، جو آئی پی ایل کی سب سے کامیاب ٹیموں میں سے ایک رہی ہے، اس وقت ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ کیا مینجمنٹ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرے گی یا یہ تنازعات ٹیم کی ساکھ کو مزید متاثر کریں گے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال، مداحوں کی تمام تر توجہ گجرات ٹائٹنز کے خلاف ہونے والے آخری لیگ میچ پر مرکوز ہے، جہاں ٹیم کو اپنے وجود کو بچانے کے لیے ہر صورت جیتنا ہوگا۔

نتیجہ: کرکٹ کے حلقوں میں یہ بحث جاری رہے گی کہ کیا سی ایس کے کی انتظامیہ نے دھونی کے بعد کے دور کے لیے صحیح منصوبہ بندی کی ہے یا نہیں۔ سابق کھلاڑیوں کی یہ تنقید ٹیم مینجمنٹ کے لیے ایک سخت پیغام ہے کہ شائقین اور تجزیہ کار اب صرف جیت کے خواہشمند نہیں بلکہ شفافیت اور درست فیصلوں کے بھی متقاضی ہیں۔

Avatar photo
Sameer Joshi

Sameer Joshi analyzes franchise performance, team rankings, and historical IPL records.