دیودت پڈیکل کا ویبھو سوریہ ونشی کی نقل کرنے کے حوالے سے دو ٹوک بیان
کرکٹ کی دنیا کا نیا سنسنیشن: ویبھو سوریہ ونشی
آئی پی ایل کے موجودہ سیزن میں اگر کسی کھلاڑی نے اپنی جارحانہ بلے بازی سے سب کی توجہ حاصل کی ہے تو وہ 15 سالہ ویبھو سوریہ ونشی ہیں۔ راجستھان رائلز کے اس نوجوان پروڈیجی نے اپنے کھیل کے معیار سے نہ صرف شائقین بلکہ سینئر کرکٹرز کو بھی متاثر کیا ہے۔ ان کی مستقل مزاجی اور دھواں دار بیٹنگ نے انہیں ایک ایسی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر طرف ان کے چرچے ہیں۔
دیودت پڈیکل کا دو ٹوک مؤقف
آر سی بی کے بلے باز دیودت پڈیکل، جو خود ایک بائیں ہاتھ کے باصلاحیت کھلاڑی ہیں، نے سوریہ ونشی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی تکنیک اور پاور ہیٹنگ بالکل منفرد ہے۔ پڈیکل کا ماننا ہے کہ اس نوجوان کی صلاحیتیں کسی عام کھلاڑی جیسی نہیں ہیں اور ان کی نقل کرنے کی کوشش کرنا سراسر بیوقوفی ہے۔
پڈیکل نے اپنے حالیہ بیان میں کہا: ‘ویبھو سوریہ ونشی جو کچھ میدان میں کر رہے ہیں، وہ واقعی بے مثال ہے۔ اتنی کم عمری میں اتنی طاقت اور جارحیت دکھانا ایک خاص بات ہے۔ کسی بھی کھلاڑی کے لیے یہ حماقت ہوگی کہ وہ ان کے انداز کو کاپی کرنے کی کوشش کرے۔ وہ ایک نایاب ٹیلنٹ ہیں، جنہیں محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔’
سوریہ ونشی کے اعداد و شمار ایک نظر میں
ویبھو سوریہ ونشی نے اس آئی پی ایل سیزن میں 13 میچوں میں 579 رنز بنا کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ محض ایک میچ کے ہیرو نہیں ہیں۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 236 رہا ہے، جو کہ جدید کرکٹ کے معیار کے مطابق حیران کن ہے۔ انہوں نے اس ٹورنامنٹ میں ایک شاندار سنچری اور متعدد نصف سنچریاں اسکور کی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں بھارتی قومی ٹیم میں شامل کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
دیودت پڈیکل: ایک ابھرتا ہوا ستارہ
دوسری جانب دیودت پڈیکل خود بھی اپنی فارم کے عروج پر ہیں۔ 25 سالہ پڈیکل نے اس سیزن میں 412 رنز بنائے ہیں، جس میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 173 رہا ہے۔ وہ اپنی ٹیم کے مڈل آرڈر میں ایک مضبوط ستون ثابت ہوئے ہیں اور ان کی کارکردگی کی بدولت انہیں افغانستان کے خلاف ایک روزہ ٹیسٹ میچ کے لیے بھارتی ٹیم میں جگہ دی گئی ہے۔
مستقبل کے امکانات
کرکٹ حلقوں میں یہ بحث گرم ہے کہ کیا سوریہ ونشی کو انگلینڈ کے خلاف آئندہ وائٹ بال سیریز میں موقع ملنا چاہیے؟ اگر ان کی حالیہ فارم کو دیکھا جائے تو یہ مطالبہ بالکل جائز معلوم ہوتا ہے۔ بھارتی سلیکٹرز کے لیے اس نوجوان کو ٹیم میں شامل کرنا ایک طویل مدتی سرمایہ کاری ثابت ہو سکتا ہے۔
نتیجہ
کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جہاں ہر کھلاڑی کا اپنا ایک منفرد انداز ہوتا ہے۔ ویبھو سوریہ ونشی نے جس طرح سے خود کو ثابت کیا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی کرکٹ کے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ دیودت پڈیکل کا مشورہ اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ ہمیں کھلاڑیوں کو کاپی کرنے کے بجائے ان کی انفرادی صلاحیتوں کو نکھارنے پر توجہ دینی چاہیے۔
آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ سوریہ ونشی کا کیریئر کس سمت جاتا ہے اور کیا وہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے لیے ایک مستقل اثاثہ بن کر ابھرتے ہیں یا نہیں۔
