روہت پاوڈیل کا غصہ: نیپال بمقابلہ امریکہ میچ میں امپائرنگ کا متنازعہ فیصلہ وائرل
کرکٹ کے میدان میں ایک اور متنازعہ فیصلہ
کیریت پور، کھٹمنڈو میں آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ لیگ 2 کے دوسرے ون ڈے میچ کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے کرکٹ کے حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ نیپال اور امریکہ کے درمیان کھیلے گئے اس اہم میچ میں نیپال کے کپتان روہت پاوڈیل کو ایک ایسا فیصلہ دیا گیا جس نے کھلاڑیوں سمیت تماشائیوں کو بھی حیران کر دیا۔
واقعہ کیا تھا؟
نیپال کی اننگز کے 38 ویں اوور میں، جب ٹیم 194 رنز پر 2 وکٹوں کے نقصان کے ساتھ مضبوط پوزیشن میں تھی، روہت پاوڈیل 46 رنز پر بیٹنگ کر رہے تھے۔ انہوں نے امریکہ کے اسپنر ملند کمار کے خلاف سویپ شاٹ کھیلنے کی کوشش کی، جس کے دوران گیند ان کے دستانے (گلو) کو چھوتے ہوئے وکٹ کیپر کے پاس چلی گئی۔ تاہم، امپائر نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے انہیں ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا۔
ٹیلی ویژن ری پلے میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا کہ گیند پیڈز کو چھوئے بغیر ہی دستانے سے ٹکرائی تھی۔ چونکہ اس میچ میں ڈی آر ایس (DRS) کی سہولت موجود نہیں تھی، اس لیے روہت پاوڈیل اس فیصلے کو چیلنج کرنے سے قاصر تھے۔
کپتان کا شدید ردعمل
فیصلے کے فوراً بعد روہت پاوڈیل کا غصہ دیدنی تھا۔ انہوں نے امپائر کے ساتھ گرما گرم بحث کی اور میدان سے باہر جاتے ہوئے اپنے بلے کو غصے میں زمین پر مارا۔ پویلین واپسی کے دوران بھی وہ اشاروں سے امپائر کو یہ بتاتے رہے کہ گیند ان کے دستانے پر لگی تھی، نہ کہ پیڈز پر۔ یہ ردعمل سمجھ میں آنے والا تھا کیونکہ یہ میچ 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنے کی دوڑ میں نیپال کے لیے بہت اہمیت رکھتا تھا۔
ورلڈ کپ کوالیفکیشن اور نیپال کی صورتحال
آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ لیگ 2 ٹورنامنٹ نیپال جیسی ٹیموں کے لیے ورلڈ کپ تک پہنچنے کا ایک سنہری موقع ہے۔ اس ٹورنامنٹ کی صرف چار بہترین ٹیمیں ہی کوالیفکیشن کے اگلے مرحلے میں داخل ہو سکیں گی۔ نیپال اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر پانچویں نمبر پر ہے اور ٹاپ فور میں جگہ بنانے کے لیے سخت جدوجہد کر رہا ہے۔ اس طرح کے غلط فیصلوں سے ٹیم کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں کیونکہ پوائنٹس ٹیبل پر فرق بہت معمولی ہے۔
میچ کا انجام
اگرچہ یہ متنازعہ لمحہ نیپال کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں تھا، لیکن ٹیم نے ہمت نہیں ہاری۔ نیپال نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 317 رنز کا ایک پہاڑ جیسا ہدف امریکہ کو دیا۔ اس کے بعد نیپال کے گیند بازوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کی پوری ٹیم کو 42 اوورز کے اندر 195 رنز پر ڈھیر کر دیا۔
- سندیپ لامیچھانے: 3 وکٹیں
- دیپیندر سنگھ ایری: 2 وکٹیں
- گلسن جھا: 2 وکٹیں
اس ٹرائی سیریز میں سکاٹ لینڈ کی ٹیم بھی شامل ہے۔ نیپال نے اس سیریز کے دوران امریکہ اور سکاٹ لینڈ دونوں کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کی ہے اور ٹورنامنٹ کا اختتام ایک فاتحانہ انداز میں کیا ہے۔ کرکٹ کے میدان میں امپائرنگ کے معیار پر سوالات اٹھنا ایک عام بات بنتی جا رہی ہے، لیکن نیپال کی جانب سے اس مشکل صورتحال میں دکھایا گیا جذبہ قابل تعریف ہے، جس نے ثابت کیا کہ وہ دباؤ کے باوجود جیتنا جانتے ہیں۔
اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ کرکٹ میں ٹیکنالوجی کا درست استعمال کتنا ضروری ہے، خاص طور پر جب بات ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹس کی کوالیفکیشن کی ہو۔ امید ہے کہ آنے والے میچوں میں امپائرنگ کے معیار میں بہتری آئے گی تاکہ کھلاڑیوں کی محنت رائیگاں نہ جائے۔
