“We Won, And That Was The Start Of Modern Cricket” – Lalit Modi opens up on IPL’ – للت مودی کا انکشاف: آئی پی ایل کی تخلیق اور بی سی سی آئی میں طاقت کی جنگ
جدید کرکٹ کا آغاز: للت مودی کی نظر سے آئی پی ایل کی کہانی
کرکٹ کی دنیا میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کا قیام ایک ایسے انقلاب کی مانند ہے جس نے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں کھیل کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ حال ہی میں، سابق کرکٹ منتظم للت مودی نے اس سفر کے پس پردہ واقعات اور ان سیاسی جدوجہد کا ذکر کیا ہے جس نے آئی پی ایل جیسی عظیم الشان لیگ کو حقیقت کا روپ دیا۔
بی سی سی آئی میں اقتدار کی جنگ
للت مودی نے ریتما پاٹھک کے یوٹیوب شو پر گفتگو کرتے ہوئے 2005 کے بی سی سی آئی صدارتی انتخابات کو یاد کیا۔ یہ وہ دور تھا جب بورڈ کے اندر طاقت کا توازن بدلنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ مودی نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے شرد پوار کو بی سی سی آئی کی صدارت کے لیے میدان میں اتارا۔ مودی کے مطابق، اس وقت بورڈ کے اندر دھڑے بندی عروج پر تھی اور ‘خرید و فروخت’ کا کھیل کھل کر کھیلا جا رہا تھا۔
مودی نے انکشاف کیا کہ 2005 میں انتخابات کے دوران ان کا گروپ ایک ووٹ سے ہار گیا تھا۔ انہوں نے پونے کرکٹ ایسوسی ایشن کے اندرونی تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح آخری لمحات میں وفاداریاں تبدیل کی گئیں۔ یہ شکست مودی اور ان کے ساتھیوں کے لیے ایک بڑا دھچکا تھی، لیکن اس نے اگلے سال ہونے والے معرکے کی بنیاد رکھی۔
سپریم کورٹ کا مداخلت اور تاریخی فیصلہ
نومبر 2005 کے انتخابات کے بارے میں بات کرتے ہوئے مودی نے بتایا کہ انہوں نے شفافیت یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ انہوں نے کہا، “میں نے ہریش سالوے کے ذریعے سپریم کورٹ سے ایک آرڈر حاصل کیا کہ انتخابات دو ریٹائرڈ ججوں کی نگرانی میں ہوں گے۔ یہ فیصلہ مخالفین کے لیے ایک بڑا سرپرائز تھا۔”
کولکتہ میں ہونے والے اس اجلاس کا منظر بیان کرتے ہوئے مودی نے بتایا کہ جب سپریم کورٹ کے جج اچانک کمرہ اجلاس میں داخل ہوئے تو وہاں موجود جگموہن ڈالمیا اور دیگر عہدیداران حیران رہ گئے۔ اس دن بی سی سی آئی کے اندر ایک نیا دور شروع ہوا اور مودی کے گروپ نے کامیابی حاصل کی۔
آئی پی ایل کا خواب اور فرنچائز ماڈل
للت مودی نے بتایا کہ بی سی سی آئی پر قبضے کے بعد انہوں نے اپنے طویل عرصے سے زیر التوا خواب یعنی آئی پی ایل پر کام شروع کیا۔ انہوں نے امریکی کھیلوں کی لیگز کے فرنچائز ماڈل کو ہندوستانی کرکٹ کے جذباتی جوش اور بالی وڈ کے گلیمر کے ساتھ ملایا۔ مودی کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی میرٹ پر مبنی تھی اور اسی دور سے جدید کرکٹ کا اصل انقلاب شروع ہوا۔
سیاسی داؤ پیچ اور کشیدگی
اس انٹرویو میں مودی نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ انتخابات کے دوران دونوں جانب سے جارحانہ حکمت عملی اختیار کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اراکین کو ہوٹلوں میں روکے جانے اور پروازوں کے رخ موڑنے جیسے واقعات معمول تھے۔ “ہم نے بھی ان کے کچھ اراکین کی پروازیں تبدیل کی تھیں کیونکہ یہ ایک الیکشن تھا اور ہمیں جیتنا تھا۔”
مودی نے ارون جیٹلی، انوراگ ٹھاکر، اور این شری نواسن جیسے نامور سیاستدانوں اور منتظمین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت ڈالمیا گروپ کے ساتھ تھے، لیکن اس کے باوجود مودی کا گروپ اپنی حکمت عملی اور میرٹ کے زور پر کامیاب رہا۔
نتیجہ
للت مودی کے ان انکشافات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آج ہم جس آئی پی ایل کو دیکھتے ہیں، وہ محض ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ برسوں کی سیاسی کشمکش اور حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ یہ وہ سفر تھا جس نے ہندوستان کو عالمی کرکٹ کا مرکز بنا دیا اور مالیاتی لحاظ سے کھیل کو ایک نئی بلندی عطا کی۔
