Cricket News

Rishabh Pant’s Release To IPL Auction Pool All But Confirmed – کیا لکھنؤ سپر جائنٹس رشابھ پنت کو ریلیز کر رہی ہے؟ آئی پی ایل آکشن میں بڑی ہلچل کے امکانات

Yash Verma · · 1 min read
Share

لکھنؤ سپر جائنٹس اور رشابھ پنت کے راستے جدا: آکشن پول میں شمولیت کی اطلاعات

انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے اگلے سیزن سے قبل کرکٹ کے حلقوں سے ایک سنسنی خیز خبر سامنے آ رہی ہے۔ لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) اور ان کے اسٹار کھلاڑی رشابھ پنت کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی اب اپنے منطقی انجام کو پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، فرنچائز کی جانب سے رشابھ پنت کو آئندہ منی آکشن سے قبل ریلیز کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، جس کے بعد پنت کا لکھنؤ سپر جائنٹس کے ساتھ سفر محض دو سال کے اندر ہی ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب محض ایک دن قبل ہی فرنچائز نے باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا کہ رشابھ پنت نے کپتانی کے عہدے سے دستبردار ہونے کی درخواست کی تھی۔ تاہم، اب یہ بات کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ ٹیم مینجمنٹ نہ صرف ان کی کپتانی بلکہ ان کی مجموعی کارکردگی سے بھی سخت ناخوش ہے اور انہیں ٹیم میں برقرار رکھنے کے حق میں نہیں ہے۔

کپتانی سے دستبرداری اور مایوس کن اعداد و شمار

گزشتہ ماہ 29 مئی کو لکھنؤ سپر جائنٹس نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ رشابھ پنت نے مسلسل دو مایوس کن سیزنز کے بعد رضا کارانہ طور پر کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرنچائز کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ پنت نے کپتانی کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کی درخواست کی تھی، جسے انتظامیہ نے انتہائی احترام کے ساتھ قبول کر لیا ہے۔

ٹیم کے اہم عہدیدار ٹام موڈی نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ‘رشابھ پنت نے خود فرنچائز سے رابطہ کیا اور یہ درخواست پیش کی، جسے ہم نے خوش دلی سے قبول کر لیا۔ اس طرح کے فیصلے کبھی بھی آسان نہیں ہوتے۔ ہم رشابھ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے بطور کپتان ڈریسنگ روم میں شاندار ماحول برقرار رکھا۔ اب ہماری تمام تر توجہ ٹیم کی ازسرنو تعمیر اور ڈھانچے کی درستگی پر ہے تاکہ ہم بہترین معیار حاصل کر سکیں۔’

سفارتی اور نرم الفاظ کے پردے میں اگر حقائق کا جائزہ لیا جائے تو اعداد و شمار ایک انتہائی مایوس کن تصویر پیش کرتے ہیں۔ بطور کپتان رشابھ پنت کی قیادت میں لکھنؤ سپر جائنٹس نے 28 میچز کھیلے جن میں سے ٹیم صرف 10 میچز جیتنے میں کامیاب ہو سکی، جبکہ ان کی جیت کا تناسب محض 35.71 فیصد رہا۔

صرف کپتانی ہی نہیں، بلکہ بلے بازی میں بھی رشابھ پنت توقعات پر پورا اترنے میں بری طرح ناکام رہے۔ انہوں نے لکھنؤ کے لیے کھیلتے ہوئے 26.40 کی معمولی اوسط اور 135.74 کے اسٹرائیک ریٹ سے صرف 581 رنز بنائے۔ سال 2026 کا سیزن تو ٹیم کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا، جہاں ایل ایس جی کی ٹیم 14 میچوں میں صرف 4 فتوحات کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر سب سے آخری نمبر پر رہی۔

لکھنؤ سپر جائنٹس کا تھنک ٹینک اب آگے بڑھنے کے لیے تیار کیوں ہے؟

رشابھ پنت کو ریلیز کرنے کا یہ بڑا فیصلہ فرنچائز کے تجربہ کار اور ہائی پروفائل کوچنگ سیٹ اپ کی مشاورت سے کیا جا رہا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، ٹیم کے تھنک ٹینک جس میں جسٹن لینگر، کین ولیمسن اور ٹام موڈی شامل ہیں، کا متفقہ طور پر یہ ماننا ہے کہ پنت کی کارکردگی ان کی بھاری قیمت کے مطابق نہیں رہی ہے۔

اگرچہ تھنک ٹینک رشابھ پنت کی انفرادی صلاحیتوں اور جارحانہ کھیل کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ ٹیم کو اب ایک نئے آغاز کی ضرورت ہے۔ قیادت اور وسائل کی تقسیم کے حوالے سے نئے فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔ اگرچہ پنت کا کپتانی سے دستبردار ہونا ان کی عزت بچانے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا تھا، لیکن اس فیصلے نے بھی لکھنؤ سپر جائنٹس کے اسکواڈ میں ان کی جگہ کو محفوظ نہیں بنایا۔

فرنچائز کے ایک اندرونی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پنت کو ریلیز کرنا اب ایک ایسا آپشن ہے جو سنجیدگی سے زیرِ غور ہے اور مینجمنٹ اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا انہیں آکشن پول میں واپس بھیج دیا جائے۔ ایک اور امکان یہ بھی ہے کہ لکھنؤ کی ٹیم آکشن کے دوران انہیں دوبارہ کم قیمت پر خریدنے کی کوشش کرے، لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ وہ انہیں دوبارہ حاصل کر پائیں گے یا نہیں۔

27 کروڑ روپے کا بھاری بوجھ

لکھنؤ سپر جائنٹس کے اسکواڈ میں رشابھ پنت 27 کروڑ روپے کی خطیر رقم کے ساتھ سب سے مہنگے کھلاڑی ہیں، جو کہ آئی پی ایل کی تاریخ کے مہنگے ترین معاہدوں میں سے ایک ہے۔ ایک ایسی فرنچائز کے لیے جو پچھلے سیزن میں آخری نمبر پر رہی ہو، ایک ایسے کھلاڑی پر اتنی بڑی رقم خرچ کرنا جو نہ تو بطور کپتان اور نہ ہی بطور میچ ونر پرفارم کر پا رہا ہو، اب ممکن نہیں رہا۔

ٹیم انتظامیہ کا ماننا ہے کہ 27 کروڑ روپے کے اس بجٹ کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کی مدد سے ٹیم کے متعدد کمزور شعبوں کو مضبوط کیا جا سکتا ہے اور اسکواڈ میں توازن لایا جا سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیم کے ایک اور آؤٹ آف فارم اسٹار نکولس پورن شاید اپنی دھواں دھار بیٹنگ کی صلاحیت اور وکٹ کیپنگ کی افادیت کی وجہ سے ٹیم میں اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائیں، لیکن پنت کی مجموعی کارکردگی اس بھاری سرمایہ کاری کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ توقع ہے کہ آنے والے ہفتوں میں فرنچائز کا بورڈ اس پر حتمی فیصلہ کرے گا، لیکن اب تک کے اشارے پنت کی رخصتی کی طرف ہی اشارہ کر رہے ہیں۔

رشابھ پنت اور لکھنؤ سپر جائنٹس کا مستقبل کیا ہوگا؟

اگر رشابھ پنت کو ریلیز کر دیا جاتا ہے، تو وہ آئندہ منی آکشن میں سب سے بڑے اور پرکشش ناموں میں سے ایک کے طور پر سامنے آئیں گے۔ کئی ایسی فرنچائزز جنہیں ایک مڈل آرڈر وکٹ کیپر بلے باز کی ضرورت ہے، پنت کو اپنے اسکواڈ کا حصہ بنانے کے لیے بڑی بولیاں لگانے کے لیے تیار ہوں گی۔ پنت کے پاس بھی خود کو دوبارہ ثابت کرنے کا ایک بہترین موقع ہوگا۔

دوسری طرف، لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج ایک ایسے نئے کپتان کی تلاش ہوگی جو ٹیم کو استحکام اور فتوحات کی راہ پر گامزن کر سکے۔ 2022 میں آئی پی ایل کا حصہ بننے والی اس ٹیم نے اپنے چار سیزنز میں صرف دو بار پلے آف میں جگہ بنائی ہے اور وہ اب بھی اپنی حقیقی شناخت تلاش کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ ٹام موڈی، جسٹن لینگر اور کین ولیمسن کی قیادت میں اب توجہ ایک متوازن اسکواڈ کی تشکیل پر مرکوز ہوگی، نہ کہ کسی ایک مہنگے ترین کھلاڑی کے گرد گھومتی ہوئی ٹیم بنانے پر۔

Avatar photo
Yash Verma

Yash Verma tracks IPL schedules, fixture announcements, and venue-related updates.