Pakistan’s Biggest Cricket Fan Calls It Quits – چچا کرکٹ کا الوداع: پاکستانی کرکٹ کے سب سے بڑے مداح کا سفر اپنے اختتام کو
پاکستان کرکٹ کے ایک عہد کا خاتمہ
پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں اگر کسی مداح کا نام سب سے نمایاں ہے تو وہ بلاشبہ عبدالجلیل ہیں، جنہیں پوری دنیا ‘چچا کرکٹ’ کے نام سے جانتی ہے۔ سبز لباس، ہاتھوں میں پاکستان کا پرچم اور اسٹیڈیم میں جوش و خروش سے بھرپور نعرے لگانے والے چچا کرکٹ اب کرکٹ کے میدانوں میں نظر نہیں آئیں گے۔ 60 سال پر محیط یہ سفر اب اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے۔
ایک طویل اور جذباتی سفر
چچا کرکٹ کے اس سفر کا آغاز 1968/69 میں ہوا جب انگلینڈ کی ٹیم دورہ پاکستان پر آئی تھی۔ تب سے لے کر آج تک، عبدالجلیل نے پاکستان کی جیت اور ہار میں ہر پل ٹیم کا ساتھ دیا۔ انہوں نے ESPNcricinfo کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کا ہدف 500 بین الاقوامی میچوں میں اپنی ٹیم کی حمایت کرنا تھا، جسے انہوں نے کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔
یادگار لمحات اور تلخ حقیقتیں
چچا کرکٹ نے کرکٹ کی دنیا کے کئی تاریخی لمحات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ وہ بتاتے ہیں: “میں اس وقت گراؤنڈ میں موجود تھا جب جاوید میانداد نے 1986 میں شارجہ کے میدان میں چیتن شرما کو آخری گیند پر چھکا مارا تھا۔ وہ ایک ناقابل فراموش لمحہ تھا۔ اسی طرح 2017 کی چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کے خلاف فتح بھی میرے لیے بہت خاص رہی۔”
تاہم، ہر سفر کی طرح اس میں کچھ دکھ بھی شامل ہیں۔ بھارت کے خلاف حالیہ شکستوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیویارک میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ میں 120 رنز کے ہدف کا تعاقب نہ کر پانا اور بھارت کے ہاتھوں لگاتار شکستیں ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، لیکن جذبات کا تعلق ٹیم کی کارکردگی سے گہرا ہوتا ہے۔
ریٹائرمنٹ اور مستقبل کے منصوبے
راولپنڈی میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے ساتھ ہی چچا کرکٹ نے اپنے ریٹائرمنٹ کے فیصلے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ یہ ان کی آخری ہوم سیریز ہے، جس کے بعد وہ اگست اور ستمبر میں انگلینڈ کے دورے پر ٹیم کو آخری بار سپورٹ کریں گے۔
اپنے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: “میں نے کرکٹ اور اپنے ملک کی محبت میں یہ سب کچھ کیا ہے۔ میرا مشن ایک سفیر کی حیثیت سے کام کرنا تھا اور مداحوں کو خوشی پہنچانا تھا۔ اب میں ایک کرکٹ تھیم والا ریسٹورنٹ کھولنے اور فلاحی کاموں پر توجہ دینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ میں نے جو یادگاریں جمع کی ہیں، انہیں ایک میوزیم میں سجاؤں گا تاکہ آنے والی نسلیں ان سے لطف اندوز ہو سکیں۔”
کرکٹ کے لیے ایک لازوال ورثہ
چچا کرکٹ کا جانا اسٹیڈیمز میں ایک خلا پیدا کر دے گا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک مداح کی محبت ٹیم کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ چاہے موسم کی شدت ہو یا طویل سفر کی تھکان، عبدالجلیل ہر جگہ پاکستان کا نام روشن کرتے رہے۔ اب جبکہ وہ اسٹیڈیم سے تو دور ہو رہے ہیں، لیکن ان کی خدمات اور کرکٹ کے ساتھ لگاؤ کی داستان ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ہم ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کا فلاحی کام معاشرے کے لیے ایک نئی مثال بنے گا۔
