محمد شامی کے ساتھ امتیازی سلوک: وسیم جعفر کا اجیت اگرکر پر سخت تنقیدی وار
محمد شامی کا معاملہ: سلیکٹرز کے دوہرے معیار پر سوال
بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق بلے باز وسیم جعفر نے چیف سلیکٹر اجیت اگرکر اور بی سی سی آئی کو محمد شامی کے حوالے سے اپنائے گئے رویے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ تنازعہ تب شروع ہوا جب شامی کو افغانستان کے خلاف ہونے والے واحد ٹیسٹ میچ کے لیے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار فارم میں دکھائی دے رہے تھے۔
وسیم جعفر کا موقف: ‘یہ وضاحت مضحکہ خیز ہے’
وسیم جعفر کا ماننا ہے کہ سلیکٹرز کی جانب سے محمد شامی کو صرف مختصر فارمیٹ (T20) کا کھلاڑی قرار دینا سراسر زیادتی ہے۔ جعفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ‘یہ وضاحت بالکل مضحکہ خیز ہے۔ ہم محمد شامی جیسے بڑے کھلاڑی کی بات کر رہے ہیں اور یہ ان کے ساتھ توہین آمیز رویہ ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اس کھلاڑی نے کیا کارکردگی دکھائی ہے اور پھر آپ اسے صرف ٹی ٹوئنٹی کے لیے محدود کر دیتے ہیں۔ یہ محض ایک بہانہ ہے۔’
جعفر نے مزید کہا کہ سلیکٹرز کو شامی کی شمولیت کے حوالے سے واضح موقف اپنانا چاہیے، نہ کہ انہیں بغیر کسی ٹھوس وجہ کے نظر انداز کرنا چاہیے۔ رانجی ٹرافی میں بنگال کو سیمی فائنل تک پہنچانے میں شامی کا کلیدی کردار رہا ہے، جس سے ان کی فٹنس اور ریڈ بال کرکٹ کے لیے اہلیت ثابت ہوتی ہے۔
شامی بمقابلہ بمراہ: کیا معیار مختلف ہیں؟
وسیم جعفر نے اپنی بات کو وزن دینے کے لیے جسپریت بمراہ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا سلیکٹرز بمراہ کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے؟ ‘اگر بمراہ فٹ نہیں ہوتے اور پھر واپسی کرتے ہیں، تو کیا آپ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کریں گے؟ محمد شامی کی مہارتیں کسی بھی طرح بمراہ سے کم نہیں ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی انٹرنیشنل بولر شامی کو ٹاپ بولرز میں شمار کرے گا۔ ان کے ساتھ یہ امتیازی سلوک انتہائی غیر منصفانہ ہے۔’
ڈومیسٹک کرکٹ میں شامی کی شاندار کارکردگی
اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو شامی کی کارکردگی ناقابل تردید رہی ہے:
- رانجی ٹرافی: 7 میچوں میں 37 وکٹیں
- سید مشتاق علی ٹرافی: 16 وکٹیں
- وجے ہزارے ٹرافی: 15 وکٹیں
یہ کارکردگی واضح کرتی ہے کہ شامی نہ صرف مکمل فٹ ہیں بلکہ ہر فارمیٹ میں ٹیم کے لیے اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
آئی پی ایل اور ورک لوڈ مینجمنٹ
دوسری جانب جسپریت بمراہ کو افغانستان کے خلاف ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز سے آرام دیا گیا ہے تاکہ ان کے ورک لوڈ کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔ بمراہ اس وقت ممبئی انڈینز کے ساتھ ہیں، تاہم 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد سے وہ اپنی بہترین فارم میں نظر نہیں آ رہے۔ اس کے برعکس، محمد شامی آئی پی ایل میں لکھنؤ سپر جائنٹس کی نمائندگی کر رہے ہیں اور 12 میچوں میں 10 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔
نتیجہ
کرکٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ سلیکشن کمیٹی کو ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر میرٹ پر فیصلے کرنے ہوں گے۔ محمد شامی جیسا تجربہ کار بولر، جس نے بھارتی ٹیم کے لیے طویل عرصے تک خدمات انجام دی ہیں، یقیناً بہتر سلوک کا حقدار ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بی سی سی آئی اس تنقید پر کیا ردعمل دیتی ہے اور کیا شامی کی ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کی راہ ہموار ہوتی ہے یا نہیں۔
