Cricket News

ویرات کوہلی کا اعتراف: مشکل دور میں راہول ڈریوڈ کی مدد نے کرکٹ سے محبت لوٹا دی

Yash Verma · · 1 min read
Share

ویرات کوہلی اور بحالی کا سفر

بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ویرات کوہلی نے حال ہی میں بنگلورو میں منعقدہ ‘آر سی بی انوویشن لیب انڈین اسپورٹس سمٹ’ کے دوران اپنے کیریئر کے ایک ایسے دور پر روشنی ڈالی جو ان کے مداحوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ 37 سالہ بلے باز نے اس مشکل مرحلے کو یاد کیا جب وہ ٹیسٹ کرکٹ کی کپتانی سے دستبردار ہوئے تھے، جو ان کی زندگی کا ایک بڑا موڑ ثابت ہوا۔

کپتانی کا بوجھ اور مشکل صورتحال

یہ سب 2021 میں شروع ہوا جب کوہلی نے پہلے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کی کپتانی چھوڑی، جس کے بعد سلیکٹرز نے وائٹ بال کرکٹ کے لیے روہت شرما کو کپتان مقرر کیا۔ تاہم، 2022 کے اوائل میں جنوبی افریقہ سے سیریز ہارنے کے بعد، کوہلی نے ٹیسٹ کپتانی سے بھی استعفیٰ دے دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب دہلی سے تعلق رکھنے والے اس عظیم بلے باز کا کیریئر اپنے سب سے خراب دور سے گزر رہا تھا، جہاں وہ تین سال سے زائد عرصے تک کسی بھی فارمیٹ میں سنچری بنانے میں ناکام رہے تھے۔

راہول ڈریوڈ اور وکرم راٹھور کا کردار

ویرات کوہلی نے اس موقع پر اعتراف کیا کہ اس بحرانی دور میں راہول ڈریوڈ، جو اس وقت بھارتی ٹیم کے ہیڈ کوچ تھے، اور بیٹنگ کوچ وکرم راٹھور نے ان کی ذہنی صحت اور کھیل کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کوہلی نے کہا، ‘میں نے جب بھی راہول ڈریوڈ اور وکرم راٹھور سے ملاقات کی، ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے میری بہت اچھی دیکھ بھال کی، جس نے مجھے بہتر کارکردگی دکھانے کا موقع فراہم کیا۔’

کوہلی نے مزید کہا کہ ان دونوں کوچز نے بطور کھلاڑی خود بھی بھارت کی نمائندگی کی تھی، اس لیے وہ ان کے جذبات کو بہتر سمجھتے تھے۔ ‘ان کی دیکھ بھال نے مجھے ان چیزوں کا احساس دلایا جو ایک کھلاڑی کے طور پر ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ان کی رہنمائی نے مجھے ذہنی طور پر مضبوط کیا، اور میں ایک ایسی کیفیت میں پہنچ گیا جہاں کرکٹ میرے لیے دوبارہ پرلطف بن گئی۔’

کپتانی کے دوران تنہائی کا احساس

ایم ایس دھونی کے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد مکمل وقت کے لیے کپتانی سنبھالنے والے ویرات کوہلی نے 68 ٹیسٹ میچوں میں سے 40 میں کامیابی حاصل کی، جو انہیں تاریخ کے کامیاب ترین بھارتی کپتانوں میں شامل کرتی ہے۔ تاہم، 2022 میں ان کا کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ ہر کسی کے لیے حیران کن تھا۔

کوہلی نے اس بارے میں گہرائی سے بات کرتے ہوئے کہا، ‘کپتانی تو چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔ ایک لیڈر کا کردار ٹیم کو سنبھالنا اور کبھی کبھار کوچنگ کرنا بھی ہوتا ہے۔ جب آپ لیڈر ہوتے ہیں تو آپ کی توجہ خود پر نہیں بلکہ دوسروں پر ہونی چاہیے، لیکن اس پورے سفر کے دوران کسی نے مجھ سے یہ نہیں پوچھا کہ میں کیسا محسوس کر رہا ہوں۔’

نتیجہ

ویرات کوہلی کا یہ اعتراف ظاہر کرتا ہے کہ کرکٹ کے میدان میں صرف تکنیک ہی کافی نہیں، بلکہ ذہنی سکون اور صحیح رہنمائی بھی کامیابی کے لیے اتنی ہی ضروری ہے۔ راہول ڈریوڈ اور وکرم راٹھور کی طرف سے ملنے والی حمایت نے کوہلی کو دوبارہ فارم میں واپس لانے اور ان کے کیریئر کو ایک نیا رخ دینے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ یہ کہانی ثابت کرتی ہے کہ ایک کوچ اور کھلاڑی کے درمیان اعتماد کا رشتہ کتنی گہری تبدیلی لا سکتا ہے۔

Avatar photo
Yash Verma

Yash Verma tracks IPL schedules, fixture announcements, and venue-related updates.