بھارتی ہاکی اسٹارز کا ویرات کوہلی کو فٹنس چیلنج: کیا ہوگا یو-یو ٹیسٹ کا نتیجہ؟
کھیلوں کے میدان سے ایک دلچسپ چیلنج کا آغاز
حال ہی میں آر سی بی انوویشن لیب انڈین اسپورٹس سمٹ کے دوران ویرات کوہلی نے فٹنس کے حوالے سے ایک ایسا بیان دیا جس نے کھیلوں کی دنیا میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ سابق بھارتی کپتان نے اعتراف کیا کہ کرکٹ کے کھلاڑی ہاکی کھلاڑیوں کی فٹنس کے مقابلے میں کہیں پیچھے ہیں۔ کوہلی کا کہنا تھا کہ، ‘اگر میں ایمانداری سے کہوں تو ہم بھارتی ہاکی کھلاڑیوں کی فٹنس کا 15 فیصد بھی نہیں ہیں۔ ہاکی کا کھیل ایسی جسمانی صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے جس کے سامنے ہماری ٹریننگ شاید معمولی لگے۔’
کیا ویرات کوہلی چیلنج قبول کریں گے؟
کوہلی کے اس بیان کے بعد بھارتی ہاکی ٹیم کے کپتان ہرمن پریت سنگھ نے بھی انکشاف کیا کہ ان کی ٹیم کے گول کیپرز بھی یو-یو ٹیسٹ میں 20 سے زیادہ اسکور کرتے ہیں، جو اس کھیل کی تیز رفتاری کی عکاسی کرتا ہے۔ اس تناظر میں، بھارتی ہاکی کے مایہ ناز کھلاڑی منپریت سنگھ اور ہاردک سنگھ نے ویرات کوہلی کو ایک دوستانہ فٹنس مقابلے کے لیے مدعو کیا ہے۔
ایک انٹرویو کے دوران جب منپریت سنگھ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ویرات کوہلی کو چیلنج دیں گے، تو انہوں نے پرجوش انداز میں کہا: ‘جی ہاں، میں یقیناً انہیں دعوت دوں گا۔ میں تو یہ بھی امید کرتا ہوں کہ پوری آر سی بی ٹیم ان کے ساتھ آئے، ہماری ٹیم تیار ہے۔’
کھیلوں کا تقابل اور باہمی احترام
جب منپریت سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ مقابلہ جیتنے کے لیے تیار ہیں، تو انہوں نے بڑی دانشمندی سے جواب دیا۔ ان کا ماننا ہے کہ کرکٹ اور ہاکی کی ضروریات مکمل طور پر مختلف ہیں۔ ‘کرکٹ بھی ایک مشکل کھیل ہے۔ 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آتی گیند کو کھیلنا آسان نہیں، اس کے لیے ہاتھ اور آنکھ کا بہترین تال میل چاہیے،’ منپریت نے وضاحت کی۔
ہاکی کے لیے تشہیر کا موقع
ہاردک سنگھ نے اس ممکنہ مقابلے کو ایک مثبت پہلو سے دیکھا۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ویرات کوہلی اور ہاکی کھلاڑیوں کے درمیان اس طرح کا فٹنس مقابلہ ہوتا ہے تو اس سے ہاکی کو وہ توجہ ملے گی جس کی اسے ضرورت ہے۔ ہاردک نے کہا: ‘میں تو اپنے ساتھی منپریت سنگھ کا ہی ساتھ دوں گا، لیکن یہ مقابلہ دونوں کھیلوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ امریکا کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں مختلف کھیلوں کے کھلاڑی آپس میں ملتے ہیں، جس سے مجموعی طور پر کھیلوں کے کلچر کو فروغ ملتا ہے۔’
کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
اگرچہ یہ ایک دوستانہ چیلنج ہے، لیکن شائقین کرکٹ اور ہاکی دونوں کے لیے یہ کسی میلے سے کم نہیں ہوگا۔ ویرات کوہلی، جو اپنی انتھک فٹنس کے لیے پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں، اور ہاکی کے کھلاڑی، جن کی برداشت کی حدود عام انسانوں سے بہت آگے ہیں، کا آمنا سامنا ایک یادگار منظر ہوگا۔ فی الحال، یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا کوہلی اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ تب تک، یہ گفتگو کھلاڑیوں کے درمیان باہمی احترام اور کھیلوں کے درمیان فاصلے ختم کرنے کی ایک بہترین مثال بنی رہے گی۔
اس طرح کے کراس اسپورٹ مقابلوں سے نہ صرف فٹنس کے معیار کو بہتر سمجھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ کھلاڑیوں میں ایک دوسرے کے کھیل کے لیے عزت کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو، ایسی پہل بھارتی کھیلوں کے منظر نامے کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
