کرکٹ کینیڈا بحران: صدر کے گھر پر فائرنگ اور میچ فکسنگ کے سنگین الزامات
کرکٹ کینیڈا کے تاریک دن: صدر کے گھر پر حملہ اور فکسنگ کے سائے
کرکٹ کینیڈا کا حالیہ دورہ بھارت اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت انتہائی متنازع ثابت ہوئی ہے۔ ایونٹ کے اختتام کے بعد سے ہی کینیڈین کرکٹ بورڈ مسلسل خبروں میں ہے، لیکن اس بار معاملہ صرف کارکردگی تک محدود نہیں رہا بلکہ میچ فکسنگ کے سنگین الزامات اور مجرمانہ عناصر کی مداخلت نے صورتحال کو تشویشناک بنا دیا ہے۔
صدر کے گھر پر فائرنگ: ایک سنگین واردات
بدھ 20 مئی کی صبح سرے، برٹش کولمبیا میں کرکٹ کینیڈا کے صدر اروندر کھوسہ کی رہائش گاہ پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق، صبح 4:40 بجے کے قریب گھر کے دروازوں اور کھڑکیوں پر تقریباً پانچ گولیاں چلائی گئیں۔ خوش قسمتی سے، اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم پولیس اسے بھتے (extortion) سے متعلقہ معاملہ قرار دے رہی ہے۔ سرجنٹ علی گائلس نے میڈیا کو بتایا کہ رہائش گاہ سے وابستہ ایک فرد کو بھتے کی دھمکیاں ملی تھیں۔ اس واقعے نے کرکٹ کینیڈا کے حکام اور کھلاڑیوں کی سیکیورٹی پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
میچ فکسنگ کا جال اور آئی سی سی کی تحقیقات
کینیڈین کرکٹ میں کرپشن کے الزامات ایک دستاویزی فلم ‘دی ففتھ اسٹیٹ’ کے انکشافات کے بعد منظر عام پر آئے۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران نیوزی لینڈ اور کینیڈا کے درمیان میچ آئی سی سی کی اینٹی کرپشن یونٹ (ACU) کی تحقیقات کی زد میں ہے۔ ٹیم کے 23 سالہ کپتان دلپریت باجوہ پر خاص طور پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ باجوہ نے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں پانچواں اوور پھینک کر سب کو حیران کر دیا تھا، جبکہ اس دوران انہوں نے ایک نو بال بھی کی اور 15 رنز دیے۔ اس فیصلے پر شائقین اور مبصرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد انہیں تحقیقات کے لیے طلب کیا گیا۔
انتظامی بحران اور آئی سی سی کی معطلی
اروندر کھوسہ نے اپریل میں عبوری کردار سنبھالنے کے بعد 9 مئی کو باقاعدہ صدر کا عہدہ سنبھالا۔ تاہم، ان کی تقرری کے محض ایک ہفتے بعد ہی آئی سی سی نے کرکٹ کینیڈا کو معطل کر دیا، جس سے کینیڈین کرکٹ کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے۔ ٹیم ورلڈ کپ کے دوران اپنی کارکردگی میں بھی بری طرح ناکام رہی، جہاں انہیں جنوبی افریقہ، متحدہ عرب امارات، نیوزی لینڈ اور افغانستان کے ہاتھوں لگاتار شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کینیڈا ان تین ٹیموں میں شامل تھی جو پورے ایونٹ میں ایک بھی میچ نہیں جیت سکیں۔
نتیجہ
کینیڈین کرکٹ اس وقت ایک ایسے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے جہاں سے نکلنے کے لیے سخت انتظامی فیصلوں اور شفافیت کی ضرورت ہے۔ بورڈ کے صدر پر ہونے والا حملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کرکٹ صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ اب اسے بیرونی مجرمانہ عناصر کے خطرات کا بھی سامنا ہے۔ آئی سی سی کی معطلی اور فکسنگ کی تحقیقات کینیڈین کرکٹ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہیں، اگر جلد اصلاحاتی اقدامات نہ کیے گئے۔ کرکٹ کے شائقین اب آئی سی سی کے حتمی فیصلے کے منتظر ہیں کہ آیا کینیڈا اپنی ساکھ بحال کر پائے گا یا یہ ملک انٹرنیشنل کرکٹ سے مکمل طور پر باہر ہو جائے گا۔
