News

IPL 2026: چنئی سپر کنگز کا مایوس کن سیزن، ابھی نینو مکنڈ نے کڑی تنقید کر دی

Ishita Sharma · · 1 min read
Share

چنئی سپر کنگز کا آئی پی ایل 2026: ایک مشکل سفر

آئی پی ایل 2026 چنئی سپر کنگز (CSK) کے لیے ایک ایسا سیزن ثابت ہوا جسے شائقین اور ماہرین دونوں ہی یاد نہیں رکھنا چاہیں گے۔ پانچ بار کی فاتح ٹیم کا سفر اس بار ساتویں نمبر پر ختم ہوا، جس سے ٹیم کے مداح خاصے مایوس نظر آتے ہیں۔ اگرچہ سی ایس کے کے باؤلنگ کوچ ایرک سائمنز کا ماننا ہے کہ ٹیم نے اس سیزن سے بطور یونٹ اور انفرادی طور پر بہت کچھ سیکھا ہے، لیکن سابق بھارتی کرکٹر ابھی نینو مکنڈ نے اس کارکردگی کو ‘اوسط’ قرار دیا ہے۔

انجری کا مسئلہ اور ٹیم کا توازن

سی ایس کے کی اس ناکامی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ کھلاڑیوں کی فٹنس رہی۔ ایم ایس دھونی کا پورے سیزن میں انجری کے باعث باہر رہنا ٹیم کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔ اسی طرح نیتن ایلس، جن سے پیس اٹیک کی قیادت کی توقع تھی، ہیمسٹرنگ انجری کے باعث سیزن سے قبل ہی باہر ہو گئے۔ اس کے علاوہ ایوش مہترے، رام کرشنا گھوش، خلیل احمد اور جیمی اوورٹن جیسے کھلاڑیوں کا مختلف مواقع پر ٹیم سے باہر ہونا سی ایس کے کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔ جیمی اوورٹن کی غیر موجودگی، جو مڈل آرڈر میں باؤلنگ کو توازن فراہم کرتے تھے، ٹیم کے لیے ایک بڑا خلا چھوڑ گئی۔

کوچنگ اسٹاف کا نقطہ نظر

ایرک سائمنز نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آئی پی ایل جیتنے کے لیے ٹیم کا توازن بہت ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ انجریز نے ٹیم کی رفتار کو متاثر کیا۔ سائمنز کے مطابق، کارتک شرما جیسے نوجوان کھلاڑیوں کا ابھر کر سامنے آنا ایک مثبت پہلو ہے، جس سے ٹیم کو اپنے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو مزید بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملا ہے۔

کیا جیت صرف ایک فریب نظر تھی؟

سیزن کے وسط میں سی ایس کے نے آٹھ میں سے چھ میچ جیت کر پلے آف کی امیدیں جگائی تھیں۔ تاہم، ابھی نینو مکنڈ کا خیال ہے کہ یہ صرف ایک ‘جھوٹی امید’ تھی۔ مکنڈ نے نشاندہی کی کہ سی ایس کے نے جن ٹیموں کو شکست دی، ان میں ٹاپ چار میں شامل کوئی بھی مضبوط ٹیم شامل نہیں تھی۔ انہوں نے کہا: ‘انہوں نے دہلی کیپٹلز، ممبئی انڈینز، لکھنؤ سپر جائنٹس اور کے کے آر کو شکست دے کر 12 پوائنٹس حاصل کیے، لیکن وہ ٹاپ ٹیموں کے خلاف اپنی ساکھ قائم کرنے میں ناکام رہے۔’

آکشن اور ٹیم کی حکمت عملی پر سوالات

سیزن شروع ہونے سے پہلے سی ایس کے نے سنجو سیمسن کو ٹیم میں شامل کیا تھا، جسے مکنڈ نے ایک اچھا فیصلہ قرار دیا۔ تاہم، غیر ملکی کھلاڑیوں کے انتخاب اور ان کے بیک اپ پر انہوں نے شدید تنقید کی۔ مکنڈ کا کہنا تھا کہ ٹیم نے آکشن میں جو بیک اپ کھلاڑی منتخب کیے، ان میں ایک تضاد پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹ ہنری یا زیک فولکس جیسے کھلاڑی نیتن ایلس یا جیمی اوورٹن کا متبادل نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کے کردار بالکل مختلف ہیں۔

مستقبل کی راہ

اگرچہ سی ایس کے کی انڈین ٹیلنٹ کی صلاحیتوں پر ابھی بھی بھروسہ کیا جا سکتا ہے، لیکن ٹیم کو اپنے غیر ملکی کھلاڑیوں کے سیٹ اپ پر دوبارہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مکنڈ نے مشورہ دیا کہ ٹیم انتظامیہ کو اگلے سیزن کے لیے اپنی حکمت عملی اور آکشن کی پالیسی پر نظرثانی کرنی ہوگی تاکہ وہ دوبارہ اپنے پرانے شاندار دور کی طرف واپسی کر سکیں۔

مجموعی طور پر، یہ سیزن سی ایس کے کے لیے ایک سبق رہا ہے کہ صرف نام کافی نہیں ہوتا، بلکہ توازن اور فٹنس بھی کامیابی کے دو اہم ستون ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے سال فرنچائز کس طرح اپنی خامیوں کو دور کر کے میدان میں اترتی ہے۔

Avatar photo
Ishita Sharma

Ishita Sharma writes feature stories about cricket rivalries, unforgettable matches, and player journeys.