Cricket News

آئی سی سی کا خواتین کرکٹ کے لیے تاریخی فیصلہ: ایمرجنگ نیشنز ٹرافی میں توسیع

Ishita Sharma · · 1 min read
Share

خواتین کرکٹ کا بدلتا منظرنامہ

گزشتہ ایک دہائی کے دوران خواتین کی کرکٹ نے دنیا بھر میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ میچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور کھلاڑیوں کو ملنے والی بے پناہ پذیرائی نے اس کھیل کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ 2025 کا ویمنز ورلڈ کپ اس تبدیلی کی واضح مثال ہے، جس نے دنیا بھر میں ویورشپ کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ بھارت اور سری لنکا میں منعقد ہونے والے اس ٹورنامنٹ کی کامیابی کے بعد آئی سی سی اب خواتین کرکٹ کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

جے شاہ کی قیادت میں خواتین کرکٹ کو فروغ

آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ نے خواتین کرکٹ کی ترقی کے لیے انتہائی اہم اقدامات کیے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی کی توسیع ہے۔ اس ٹورنامنٹ کا آغاز گزشتہ سال ہوا تھا، لیکن اب آئی سی سی نے اس کے دائرہ کار کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ٹیمیں اس مسابقتی عمل کا حصہ بن سکیں۔

نومبر 2026 کا ٹورنامنٹ: کون سی ٹیمیں حصہ لیں گی؟

نومبر 2026 میں منعقد ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں کل 10 ٹیمیں حصہ لیں گی، جنہیں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

  • ایسوسی ایٹ ٹیمیں: نیدرلینڈز، اسکاٹ لینڈ، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات (UAE) اور پاپوا نیو گنی (PNG)۔
  • ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیمیں: سری لنکا، بنگلہ دیش، پاکستان، زمبابوے اور آئرلینڈ۔

یہ فیصلہ آئی سی سی کی چیف ایگزیکٹو کمیٹی کے آن لائن اجلاس میں کیا گیا، جس کا مقصد ابھرتی ہوئی ٹیموں کو تجربہ کار ٹیموں کے خلاف کھیلنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

ریونیو کا پہلو اور خواتین کرکٹ کی اہمیت

کئی دہائیوں تک خواتین کی کرکٹ کو مینز کرکٹ کے مقابلے میں ثانوی حیثیت حاصل رہی، لیکن اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ جے شاہ کے آئی سی سی چیئرمین بننے کے بعد اس شعبے میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2025 کے ویمنز ورلڈ کپ کے لیے کل انعامی بجٹ 13.88 ملین ڈالر (تقریباً 123 کروڑ روپے سے زائد) تھا، جو 2022 کے ورلڈ کپ کے مقابلے میں 297 فیصد زیادہ تھا۔ حیران کن طور پر، یہ رقم 2023 کے مردوں کے ورلڈ کپ کی کل انعامی رقم سے بھی زیادہ تھی۔ آئی سی سی کا ہدف ہے کہ خواتین کے میچوں اور ٹورنامنٹس سے کم از کم 100 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل کی جائے۔

ابتدائی ٹورنامنٹ کی جھلک

ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی کا افتتاحی ایڈیشن گزشتہ سال نومبر میں بینکاک میں منعقد ہوا تھا۔ اس میں تھائی لینڈ، اسکاٹ لینڈ، نیدرلینڈز، متحدہ عرب امارات، پاپوا نیو گنی، نمیبیا، یوگنڈا اور تنزانیہ کی ٹیموں نے حصہ لیا تھا۔ میزبان ملک تھائی لینڈ نے نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر یہ ٹائٹل اپنے نام کیا تھا، جو ان کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہوئی۔

مستقبل کے چیلنجز اور مینز کرکٹ پر بحث

جہاں خواتین کی کرکٹ پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے، وہیں مردوں کی کرکٹ سے متعلق اہم معاملات بھی زیر غور ہیں۔ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کی تنظیم نو اور ٹو ٹائر سسٹم کے نفاذ پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔ تاہم، حالیہ اطلاعات کے مطابق یہ معاملات 30 مئی کو احمد آباد میں ہونے والے آئی سی سی بورڈ کے اجلاس تک مؤخر کر دیے گئے ہیں۔ کرکٹ بورڈز کے نمائندے اس اجلاس میں شرکت کریں گے، جس کے بعد کھیل کے مستقبل کے بارے میں مزید اہم فیصلے متوقع ہیں۔

خواتین کرکٹ کا یہ نیا سفر نہ صرف کھلاڑیوں کے لیے نئے مواقع لے کر آئے گا بلکہ دنیا بھر میں کھیل کے شائقین کے لیے بھی ایک بہترین تجربہ ثابت ہوگا۔ آئی سی سی کے یہ اقدامات اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ آنے والے وقت میں خواتین کرکٹ عالمی سطح پر مزید مضبوط اور مقبول ہوگی۔

Avatar photo
Ishita Sharma

Ishita Sharma writes feature stories about cricket rivalries, unforgettable matches, and player journeys.