Rohit Sharma Claims Unwanted Record! IPL Players With Most Ducks
آئی پی ایل کی تاریخ: سنہری کارکردگی کے پیچھے چھپا تاریک پہلو
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) دنیا کی سب سے بڑی ٹی 20 لیگ سمجھی جاتی ہے جہاں شاندار چھکوں، زبردست بیٹنگ اور میچ وننگ اننگز کی ہمیشہ تعریف کی جاتی ہے۔ تاہم، اس چکا چوند اور گلیمر کے پیچھے ایک ایسی حقیقت بھی ہے جسے کرکٹ کے ماہرین اکثر ‘ڈک’ (صفر پر آؤٹ ہونا) کا نام دیتے ہیں۔ اگرچہ ٹیل اینڈرز سے اکثر یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ صفر پر آؤٹ ہوں گے، لیکن آئی پی ایل کی طویل تاریخ میں کئی ایسے عظیم کھلاڑی گزرے ہیں جن کا نام ان کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہے جو سب سے زیادہ بار بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹے۔
Rohit Sharma Claims Unwanted Record! IPL Players With Most Ducks: ایک تجزیہ
آئی پی ایل کی تاریخ میں اب روہت شرما اور گلین میکسویل ایک ایسے ریکارڈ کے ساتھ سرفہرست ہیں جسے کوئی بھی بلے باز اپنے کیریئر میں نہیں چاہے گا۔ اس آرٹیکل میں ہم ان کھلاڑیوں پر ایک تفصیلی نظر ڈالیں گے جو آئی پی ایل میں سب سے زیادہ صفر پر آؤٹ ہونے کا شکار ہوئے ہیں۔
روہت شرما اور گلین میکسویل: 19 ڈکس کے ساتھ سرفہرست
آئی پی ایل کی تاریخ میں 7,000 سے زائد رنز بنانے والے چند کھلاڑیوں میں سے ایک روہت شرما اب ایک غیر مطلوب ریکارڈ کے مالک بن چکے ہیں۔ ممبئی انڈینز کے سابق کپتان نے اپنے آئی پی ایل کیریئر کے دوران 19 بار صفر پر اپنی اننگز ختم کی ہے۔ انہوں نے یہ 19واں ڈک ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں ایک میچ کے دوران حاصل کیا۔ مجموعی طور پر، روہت نے دکن چارجرز اور ممبئی انڈینز کے لیے کھیلتے ہوئے 276 اننگز میں یہ ریکارڈ قائم کیا ہے۔
دوسری جانب، آسٹریلیا کے جارح مزاج آل راؤنڈر گلین میکسویل بھی اس فہرست میں روہت کے ہم پلہ ہیں۔ میکسویل نے صرف 135 اننگز میں 19 بار صفر پر آؤٹ ہو کر یہ ریکارڈ بنایا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ اوسطاً ہر سات اننگز میں ایک بار صفر پر آؤٹ ہوتے ہیں۔
دنیش کارتک اور سنیل نارائن: 18 ڈکس
تجربہ کار وکٹ کیپر بلے باز دنیش کارتک، جنہوں نے 17 سیزن کھیلے، اس فہرست میں 18 ڈکس کے ساتھ موجود ہیں۔ کارتک کا کیریئر بہت طویل رہا اور انہوں نے کئی ٹیموں کی نمائندگی کی، لیکن ڈکس کی تعداد انہیں اس غیر مطلوب فہرست کا حصہ بناتی ہے۔
کے کے آر کے سنیل نارائن بھی 18 ڈکس کے ساتھ اس فہرست میں شامل ہیں۔ نارائن نے 2012 سے اب تک 201 میچوں میں حصہ لیا ہے۔ اگرچہ وہ اپنی تیز رفتار بیٹنگ کے لیے جانے جاتے ہیں، لیکن 126 اننگز میں 18 بار صفر پر آؤٹ ہونا ان کے کیریئر کا ایک تلخ پہلو ہے۔
پیوش چاولہ اور راشد خان: 16 ڈکس
اسپنرز کی بات کریں تو پیوش چاولہ اور راشد خان دونوں 16-16 ڈکس کے ساتھ اس فہرست میں موجود ہیں۔ پیوش چاولہ نے 92 اننگز میں یہ تعداد مکمل کی ہے، جبکہ راشد خان نے 72 اننگز میں 16 بار ڈک کا سامنا کیا ہے۔ جہاں راشد خان اپنی جارحانہ بیٹنگ اور 157.36 کے اسٹرائیک ریٹ کے لیے مشہور ہیں، وہیں یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ٹی 20 کرکٹ میں بڑے سے بڑے کھلاڑی بھی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
نتیجہ
آئی پی ایل میں ریکارڈز کا بننا اور ٹوٹنا ایک معمول کا عمل ہے۔ جہاں کھلاڑی سنچریوں اور وکٹوں کے انبار لگاتے ہیں، وہیں یہ ‘ڈک’ کی فہرست ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ کرکٹ کا کھیل کتنا غیر متوقع ہے۔ روہت شرما اور دیگر کھلاڑیوں کا اس فہرست میں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کھیل کی دنیا میں اتار چڑھاؤ ہر کسی کے لیے برابر ہیں۔
