Bangladesh women dream big ahead of T20 World Cup 2026
انگلینڈ میں ہونے والے میگا ایونٹ کے لیے بنگلہ دیشی ویمن کرکٹ ٹیم کا عزم
آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 انگلینڈ اور ویلز کی سرزمین پر جون اور جولائی میں منعقد ہونے جا رہا ہے، اور بنگلہ دیش کی خواتین کرکٹ ٹیم اس بڑے ایونٹ کے لیے خود کو تیار کرنے میں مصروف ہے۔ حال ہی میں سری لنکا کے خلاف سیریز ختم کرنے کے بعد، ٹائیگریسز اب ایک سخت تربیتی کیمپ میں اپنی صلاحیتوں کو نکھار رہی ہیں۔
تیاریوں کا سفر اور اسکاٹ لینڈ کا دورہ
اگرچہ ورلڈ کپ سے قبل ویمنز بی پی ایل کے انعقاد کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ اب بنگلہ دیش کی ٹیم اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے اسکاٹ لینڈ میں ایک سہ فریقی سیریز کھیلے گی۔ اس ٹورنامنٹ میں میزبان اسکاٹ لینڈ اور نیدرلینڈز کی ٹیمیں بھی حصہ لیں گی۔ اس سیریز کے علاوہ، ورلڈ کپ کے باقاعدہ آغاز سے قبل بنگلہ دیش دو وارم اپ میچز بھی کھیلے گی تاکہ انگلینڈ کی کنڈیشنز سے پوری طرح ہم آہنگ ہو سکے۔
کپتان نگار سلطانہ جیوتی کا پختہ یقین
دبئی میں گزشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے، کپتان نگار سلطانہ جیوتی اپنی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کے لیے پرعزم ہیں۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران جیوتی نے کہا، ‘گزشتہ ورلڈ کپ میں ہم نے ایک میچ جیتا تھا، لیکن اس بار ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنی جیت کی تعداد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ٹیم میں اب صرف چند کھلاڑیوں پر انحصار نہیں ہے بلکہ کئی لڑکیاں ذمہ داری اٹھا رہی ہیں۔ کھلاڑیوں میں جیتنے کی بھوک موجود ہے اور ہم کم از کم دو سے تین میچ جیتنے کا ہدف لے کر جا رہے ہیں۔’
جیوتی نے مزید کہا کہ ورلڈ کپ ایک بڑا اسٹیج ہے جہاں اچھی کارکردگی کھلاڑیوں کے کیریئر کے لیے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ ٹیم کا مورال بہت بلند ہے اور سب مثبت سوچ کے ساتھ میدان میں اترنے کے لیے تیار ہیں۔
حکمت عملی اور اہم حریف
بنگلہ دیشی کپتان کے مطابق نیدرلینڈز اور پاکستان کے خلاف میچز جیتنا ان کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا، ‘پاکستان اور نیدرلینڈز کے خلاف ہمارے پاس کامیابی کے بہترین مواقع ہیں۔ ہم ماضی میں جنوبی افریقہ کو بھی شکست دے چکے ہیں، اس لیے ہمارا پلان ہر میچ کو انفرادی اہمیت دینا ہے۔’
انگلینڈ کی کنڈیشنز اور پیس بولنگ کا انتخاب
انگلینڈ کی کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے بنگلہ دیش نے اسکواڈ میں دو ماہر فاسٹ بولرز، معروفہ اختر اور فریحہ اسلام ترشنا کو شامل کیا ہے۔ جیوتی نے وضاحت کی کہ ٹیم میں ایک پیس بولنگ آل راؤنڈر بھی موجود ہے، جس سے پیس آپشنز تین ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ‘ہماری ٹیم گزشتہ چھ ماہ سے اسی کمبی نیشن کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ معروفہ اور ترشنا نے اپنی فارم ثابت کی ہے، اور ہماری ترجیح ان کی فٹنس کو برقرار رکھنا ہے تاکہ وہ پورے ٹورنامنٹ میں ٹیم کے لیے موثر ثابت ہو سکیں۔’
آسٹریلیا کے خلاف بے خوف کرکٹ
گروپ اسٹیج میں بنگلہ دیش کا مقابلہ آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم سے بھی ہوگا۔ اس حوالے سے کپتان نے کہا کہ انہیں آسٹریلیا کے خلاف ‘بے خوف کرکٹ’ کھیلنی ہوگی۔ ماضی میں بڑی ٹیموں کو ناقابل شکست سمجھا جاتا تھا، لیکن اب بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کا ماننا ہے کہ وہ کسی بھی بڑی ٹیم کو دباؤ میں لا کر مقابلہ کر سکتی ہیں۔
لارڈز کے تاریخی میدان میں کھیلنے کا خواب
بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے 28 جون کا دن انتہائی اہم ہوگا جب وہ تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر جنوبی افریقہ کا سامنا کرے گی۔ جیوتی نے اس موقع پر اپنے جوش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ‘ہم نے بچپن سے لارڈز جیسے اسٹیڈیمز میں میچز دیکھے ہیں اور وہاں کھیلنے کا خواب دیکھا ہے۔ یہ ہمارے لیے تاریخ رقم کرنے کا ایک شاندار موقع ہے۔’
بنگلہ دیشی ویمن کرکٹ ٹیم کا یہ سفر امیدوں اور جذبوں سے بھرپور ہے، اور پوری قوم کو امید ہے کہ ٹائیگریسز اس بار ورلڈ کپ میں اپنی ایک الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہوں گی۔
