Vaibhav Sooryavanshi Called Out By India Great; Urges BCCI To Take Action
آئی پی ایل 2026 میں ویبھو سوریونشی کا جادو اور تنازعات
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 کا سیزن کئی لحاظ سے یادگار رہا ہے، لیکن سب سے زیادہ توجہ کا مرکز 15 سالہ نوجوان بلے باز ویبھو سوریونشی بنے ہوئے ہیں۔ راجستھان رائلز (RR) کی ٹیم، جو ریان پراگ کی قیادت میں پلے آف کے لیے کوالیفائی کر چکی ہے، اپنے دوسرے آئی پی ایل ٹائٹل کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سفر میں ویبھو سوریونشی ایک کلیدی کردار کے طور پر ابھرے ہیں۔
ویبھو سوریونشی نے اس سیزن میں 14 اننگز میں 583 رنز بنائے ہیں اور وہ آئی پی ایل 2026 کے پانچویں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔ راجستھان رائلز کے لیے، یہ نوجوان بلے باز ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ کا سب سے اہم ستون ثابت ہوا ہے۔ تاہم، ان کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ایک اہم بحث بھی شروع ہو چکی ہے، جس میں Vaibhav Sooryavanshi Called Out By India Great; Urges BCCI To Take Action کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
امپیکٹ سب کے طور پر ویبھو کی ذمہ داریاں
راجستھان رائلز نے اس سیزن میں ویبھو سوریونشی کو زیادہ تر ایک ‘امپیکٹ سب’ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف بیٹنگ کے لیے میدان میں آتے ہیں۔ ایک 15 سالہ کھلاڑی پر اتنی بڑی ذمہ داری کا بوجھ ہونا اور اس پر پورا اترنا یقیناً متاثر کن ہے، لیکن کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ طریقہ کار ان کی مجموعی نشوونما کے لیے درست نہیں ہے۔
سماجی حلقوں اور ماہرین کرکٹ میں یہ خدشات بھی پائے جاتے ہیں کہ ویبھو کی فٹنس کے مسائل کی وجہ سے انہیں فیلڈنگ سے دور رکھا جاتا ہے۔ اس سیزن کے دوران وہ دو بار فیلڈنگ کے دوران زخمی ہو چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ٹیم انتظامیہ ان کے معاملے میں کافی محتاط ہے۔
سنجے منجریکر کا تنقیدی موقف
حال ہی میں، سابق بھارتی کرکٹر اور تجزیہ کار سنجے منجریکر نے راجستھان رائلز کی حکمت عملی پر کڑی تنقید کی ہے۔ منجریکر کا ماننا ہے کہ امپیکٹ پلیئر کا قاعدہ اب ختم کر دینا چاہیے کیونکہ بین الاقوامی کرکٹ میں ایسا کوئی اصول موجود نہیں ہے۔
سنجے منجریکر نے ‘اسپورٹ اسٹار’ کے پوڈکاسٹ میں بات کرتے ہوئے کہا: “میں جتنا زیادہ اس بارے میں سوچتا ہوں، اتنا ہی محسوس کرتا ہوں کہ ہمیں امپیکٹ پلیئر رول کو ختم کر دینا چاہیے۔ کیا ہم واقعی ویبھو سوریونشی کو اس طرح دیکھنا چاہتے ہیں؟ کہ وہ صرف کھیل کا ایک ہی پہلو پیش کرے؟” ان کا کہنا ہے کہ اگر ویبھو مستقبل میں بھارتی ٹیم کے لیے کھیلتے ہیں، تو انہیں فیلڈنگ کرنی ہوگی، جس کی انہیں عادت نہیں ڈالی جا رہی۔
ممبئی انڈینز کے خلاف شاندار کارکردگی
دلچسپ بات یہ ہے کہ راجستھان رائلز کے آخری گروپ میچ میں ممبئی انڈینز کے خلاف ویبھو سوریونشی کو امپیکٹ سب کے طور پر نہیں بلکہ ایک مکمل کھلاڑی کے طور پر کھلایا گیا۔ اس میچ میں انہوں نے نہ صرف بیٹنگ بلکہ فیلڈنگ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے ریان ریکلٹن کا کیچ لے کر آئی پی ایل کی تاریخ کے سب سے کم عمر کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کیا جنہوں نے لیگ میں کیچ پکڑا ہو۔
کیا امپیکٹ رول نوجوان کھلاڑیوں کے لیے نقصان دہ ہے؟
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سنجے منجریکر کا موقف بے بنیاد نہیں ہے۔ ویبھو سوریونشی جیسے ابھرتے ہوئے کھلاڑی کو میدان میں زیادہ وقت گزارنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کھیل کی باریکیوں کو سمجھ سکیں۔ بھارتی ٹیم میں ان کا انتخاب تقریباً طے ہے، اور قومی ٹیم کو ضرورت ہے کہ وہ ایک مکمل کھلاڑی کے طور پر تیار ہوں۔ مسلسل فیلڈنگ نہ صرف انہیں کھیل کے ہر شعبے میں ماہر بنائے گی بلکہ ان کی جسمانی فٹنس کو بھی بہتر کرے گی۔
نتیجتاً، یہ بحث اب بی سی سی آئی (BCCI) کے ایوانوں تک پہنچ چکی ہے۔ کیا کرکٹ بورڈ اس قاعدے پر نظر ثانی کرے گا تاکہ ویبھو سوریونشی جیسے نوجوان ٹیلنٹ کو ایک مکمل کھلاڑی کے طور پر پروان چڑھنے کا موقع مل سکے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الحال ویبھو کا بلا مسلسل بول رہا ہے، جو شائقین کرکٹ کے لیے ایک خوش آئند بات ہے۔
