Former Indian legend backs Rishabh Pant after LSG skipper dropped F-Bomb on live
آئی پی ایل 2026 کے ایک دل شکن سیزن کے بعد لاکھوں کرکٹ شائقین کے ذہنوں میں ایک سوال گونج رہا ہے: کیا شکست کے فوراً بعد کپتانوں سے انٹرویوز کرنا فیئر ہے؟ اس بحث کو ایک نئی جہت اس وقت ملی جب لاکھو سپر جائنتس کے کپتان رشیبھ پنٹ نے میچ کے بعد ہونے والی لاٹو ٹی وی بات چیت کے دوران ایک جذباتی لمحے میں فحش لفظ کا استعمال کر بیٹھے۔ اس واقعے کے بعد سابق بھارتی کپتان سونیل گاوتھم نے ان کا ساتھ دیتے ہوئے کہا کہ فوری انٹرویو کا عمل دباؤ میں ہونے والی غلطیوں کو جنم دے سکتا ہے۔
رشیبھ پنٹ کا جذباتی لمحہ
لاکھو سپر جائنتس کے لیے آئی پی ایل 2026 ایک تباہ کن سیزن رہا۔ 14 میچوں میں صرف آٹھ پوائنٹس حاصل کرنے کے بعد ٹیم ٹیبل میں آخری پوزیشن پر رہی۔ سیزن کے آخری میچوں میں سے ایک کے بعد، جب پنٹ سے میچ کے بعد کی کارکردگی کے بارے میں سوال کیا گیا تو، وہ کہنے لگے:
“ہر اس چیز کے باوجود جو ہوئی، ہم ایک اچھی ٹیم ہیں۔ اس سیزن ہمارے خلاف چل رہا ہے، لیکن یہ تبدیل نہیں کر سکتا کہ ہم ایک ****** اچھی ٹیم ہیں۔”
انٹرویو کے بعد سابق ویسٹ انڈیز فاسٹ باؤلر این بشپ نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ نشریاتی اسکرین پر غیر مناسب لفظ آ گیا۔
سونیل گاوتھم کی حمایت
معروف کالم نگار اور سابق بھارتی کپتان سونیل گاوتھم نے اپنے حالیہ کالم میں رشیبھ پنٹ کے موقف کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک شکست خوردہ کپتان، جو سخت گرمی میں وکٹ کیپر کے طور پر میدان میں بھاگتا رہا ہو، اور ابھی کھیل ختم ہوا ہو، سے فوری طور پر سوالات کرنا دباوَ دینے والا ہو سکتا ہے۔
گاوتھم نے کہا: “ایک کھلاڑی کو ابھی میدان میں گھنٹوں دوڑنے، جذبات کا اظہار کرنے، اور پھر مائیک کے سامنے جذبات کو کنٹرول کرنے کو کہا جاتا ہے؟ یہ ظالمانہ ہے۔”
کیا انٹرویوز کا وقت تبدیل ہونا چاہیے؟
ایک اور سابق بھارتی کرکٹر نے بھی اسی رائے کی تائید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاٹو انٹرویوز کے دوران شکست خوردہ کپتان کے بجائے میچ کا بہترین کھلاڑی انٹرویو دینے کے لیے بلایا جائے۔ اس سے:
- شکست کے جذبات تھوڑے ٹھنڈے ہو سکیں۔
- کپتان کو نہانے، تازہ دم ہونے اور اپنے خیالات کو ترتیب دینے کا موقع ملے۔
- ناظرین کے سامنے نامناسب مناظر سے بچا جا سکے۔
رشیبھ پنٹ: ایک مثبت کردار
حالانکہ اس واقعے نے چند سیکنڈز میں وائرل ہو کر شائقین میں تشویش پیدا کی، لیکن کرکٹ ماہرین نے یاد دلایا کہ رشیبھ پنٹ بنیادی طور پر ایک پرجوش، پر امید اور مثبت کردار ہیں۔ وہ اکثر ہنستے کھیلتے ہیں، اپنے انداز میں مقابلہ کرتے ہیں، اور ٹیم کے لیے جان دیتے ہیں۔ ایک ہلکے سے غصے کا لمحہ ان کی کردار پر سوال نہیں اٹھاتا۔
گاوتھم نے کہا کہ کھلاڑیوں کو انسان ہونے کے ناتے جذبات کا اظہار کرنے کا حق ہے، خاص طور پر جب وہ ناکامی کے دباؤ میں ہوں۔
آئندہ کیا؟
اگرچہ ٹی وی نشریات کمپنیوں کو اپنے معیاری اخلاقی ضابطے برقرار رکھنے چاہییں، لیکن اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ شکست کے فوراً بعد جذباتی کھلاڑیوں کے ساتھ فوری انٹرویوز کے عمل کو نرم کر سکتی ہیں۔ کیونکہ ایک F-بولب مائیک پر آ گیا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ کھلاڑی بری طرح کا ہے۔ کبھی کبھی، یہی جذبات انہیں وہ کپتان بناتے ہیں جو وہ ہیں۔
