“The motive was just fun banter” – Shreyas Iyer’s sister breaks silence on onlin
آن لائن نفرت اور ٹرولنگ کا بڑھتا ہوا رجحان
کرکٹ کے میدانوں میں ہونے والے مقابلوں کا اثر اب سوشل میڈیا پر اس قدر بڑھ چکا ہے کہ کھلاڑیوں کے اہل خانہ بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔ حال ہی میں، پنجاب کنگز کے کپتان شریس آئیر کی بہن، شریشٹا آئیر نے اپنے ساتھ ہونے والی آن لائن ہراسانی پر ایک تفصیلی ویڈیو جاری کی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پنجاب کنگز کی ٹیم آئی پی ایل 2026 کے پلے آف مرحلے سے باہر ہو گئی۔
معاملہ کیا تھا؟
تنقید کا یہ سلسلہ تب شروع ہوا جب شریشٹا آئیر کی ایک پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ اس ویڈیو میں وہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے حوالے سے ایک مذاق کرتی نظر آتی ہیں۔ شریشٹا نے وضاحت کی کہ یہ ویڈیو صرف ایک دوستانہ مذاق (banter) تھی، لیکن سوشل میڈیا صارفین نے اسے غلط رنگ دے کر انتہائی سطح تک لے جانے کی کوشش کی۔
شریشٹا آئیر نے اپنی وضاحت میں کہا: “میں نے جو ویڈیو بنائی تھی، اسے آپ لوگوں نے مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کیا۔ اس کا مقصد صرف ایک پرلطف تبصرہ تھا، نہ کہ کسی کو ٹرول کرنا۔ میرے دل میں کسی کے لیے نفرت نہیں ہے، اور نہ ہی میں کسی کرکٹر کے خلاف کوئی منفی جذبات رکھتی ہوں۔ چونکہ میرا بھائی خود ایک کرکٹر ہے، میں ہر کھلاڑی کی عزت کرتی ہوں۔”
ذاتی زندگی پر اثرات
شریشٹا نے انکشاف کیا کہ ٹرولنگ صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ ان کے کام کی جگہ پر فون کالز کر رہے ہیں، ان کے ساتھیوں اور طلباء کو ہراساں کر رہے ہیں، اور ان کے خاندان کو غیر ضروری طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: “مجھے آپ لوگوں پر ترس آتا ہے۔ آپ میرے دفتر اور میرے خاندان کو کیوں بیچ میں لاتے ہیں؟ آپ میرے گھر والوں کو عجیب اوقات میں کال کر کے ہراساں کر رہے ہیں، یہ عمل انتہائی افسوسناک ہے۔”
ٹیم کی کارکردگی اور تناظر
پنجاب کنگز کے لیے آئی پی ایل 2026 کا سیزن اتار چڑھاؤ سے بھرا رہا۔ ٹیم نے شاندار آغاز کیا تھا اور پہلے سات میں سے چھ میچ جیتے تھے، تاہم اس کے بعد لگاتار چھ شکستوں نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ ٹیم پانچویں نمبر پر رہی اور صرف ایک پوائنٹ کے فرق سے پلے آف میں جگہ نہ بنا سکی۔ اس دوران شریس آئیر نے اپنی شاندار فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئی پی ایل میں اپنی پہلی سنچری بھی سکور کی۔
کرکٹ میں ٹوکسک فین کلچر
یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارتی کرکٹ میں فین کلچر کس حد تک زہریلا ہو چکا ہے۔ ویرات کوہلی اور ٹریوس ہیڈ کے حالیہ واقعات نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ میچ کے نتائج کو ذاتی نوعیت پر لے کر کھلاڑیوں اور ان کے خاندانوں کو نشانہ بنانا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ شریشٹا آئیر نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ چاہے ان کا بھائی جیتے یا ہارے، وہ ہمیشہ اس کی حمایت کرتی رہیں گی اور کسی کو بھی اپنے خاندان یا پیشہ ورانہ زندگی کو ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔
نتیجہ
آخر میں شریشٹا نے کرکٹ شائقین سے اپیل کی کہ وہ اپنی حدود کا خیال رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو مجھ سے نفرت ہے تو ٹھیک ہے، لیکن میرے خاندان اور میرے کام سے وابستہ افراد کو ہراساں کرنا بند کریں۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک کرکٹر کی بہن کی جدوجہد ہے، بلکہ یہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک انتباہ ہے جو سوشل میڈیا کو دوسروں کی زندگی اجیرن بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
