Bangladesh Cricket

لٹن داس کا انکشاف: آئی پی ایل سے اچانک واپسی کی اندرونی کہانی

Noor Fatima · · 1 min read
Share

آئی پی ایل سے علیحدگی: ایک ان کہی داستان

بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز لٹن داس نے تین سال کے طویل وقفے کے بعد آئی پی ایل 2023 میں اپنے مختصر قیام اور کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) سے اچانک واپسی کی اصل وجوہات بیان کر دی ہیں۔ ایک پوڈکاسٹ کے دوران انہوں نے اس صورتحال پر کھل کر بات کی جس نے نہ صرف ان کے کیریئر کے اس اہم موقع کو متاثر کیا بلکہ بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے۔

عدم تعاون اور این او سی کا مسئلہ

لٹن داس کے مطابق، ان کی آئی پی ایل میں شمولیت دو بڑے مسائل کا شکار رہی: ایک مکمل این او سی (NOC) حاصل کرنے میں غیر یقینی صورتحال اور دوسری جانب کے کے آر انتظامیہ کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیے جانے کا احساس۔ لٹن کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کے لیے آئی پی ایل میں موقع ملنا پہلے ہی بہت مشکل ہوتا ہے اور جب انہیں یہ موقع ملا تو بورڈ کی رکاوٹوں نے اسے مزید پیچیدہ بنا دیا۔

انہوں نے بتایا، ‘میں نے بورڈ سے بار بار درخواست کی کہ مجھے آئرلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ چھوڑنے کی اجازت دی جائے تاکہ میں آئی پی ایل میں پورا سیزن کھیل سکوں، لیکن بورڈ نے صاف انکار کر دیا۔ اس فیصلے نے میری ساکھ کو متاثر کیا اور کے کے آر نے بھی مجھے ایک مختلف نقطہ نظر سے دیکھنا شروع کر دیا۔’

کھلاڑیوں کی نشوونما اور بین الاقوامی لیگز

لٹن داس کا ماننا ہے کہ کھلاڑیوں کو دیگر لیگز میں جانے کی اجازت ملنی چاہیے کیونکہ وہاں سیکھنے کے مواقع بے پناہ ہوتے ہیں۔ شکیب الحسن اور مستفیض الرحمان کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں کا معیار اس لیے بلند ہوا کیونکہ انہوں نے دنیا کی بہترین لیگز میں مقابلہ کیا۔ ‘اگر بنگلہ دیشی کرکٹرز کو ایسے مواقع ملیں تو انہیں کھیلنے کی اجازت ہونی چاہیے، بشرطیکہ کھلاڑی کو یہ یاد رہے کہ اس کا اصل مقصد اپنے ملک کی خدمت کرنا ہے۔’

ذہنی تیاری اور کے کے آر کا رویہ

لٹن داس نے اعتراف کیا کہ وہ آئی پی ایل کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ان کے ساتھ سلوک کیا گیا، اس سے ان کا اعتماد متزلزل ہوا۔ ‘مجھے نہیں لگتا کہ میں کولکتہ کے لیے تیار تھا کیونکہ مجھے مسلسل ٹیسٹ سیریز کے لیے روکے رکھا گیا۔ اس وقت ہمارے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ ہم کھل کر بات کر سکیں۔’

اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لٹن نے بتایا کہ انہیں میچ کھلانے کا فیصلہ بھی بہت تاخیر سے بتایا جاتا تھا۔ ‘عام طور پر کسی کھلاڑی کو پہلے بتایا جاتا ہے کہ وہ اگلے دن کھیلے گا، لیکن میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ دو میچ باہر بیٹھنے کے بعد، اچانک رات 11 بجے میسج آتا ہے کہ میں کل کھیلوں گا۔ میں نے اپنی پوری کوشش کی، لیکن وہ دن میرا نہیں تھا۔’

نتیجہ

لٹن داس کی یہ گفتگو بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ اور کھلاڑیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کی عکاس ہے۔ ایک ایسے دور میں جب کھلاڑی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا چاہتے ہیں، بورڈ اور کھلاڑیوں کے درمیان ہم آہنگی کا ہونا ناگزیر ہے۔ لٹن کا یہ بیان مستقبل میں بنگلہ دیشی کرکٹ کی پالیسیوں میں تبدیلی کے لیے ایک اہم پیغام سمجھا جا رہا ہے۔

Avatar photo
Noor Fatima

Noor Fatima covers detailed player profiles, career milestones, and cricket biographies.