“Tremendous injustice”: Sanjay Manjrekar fumes over Auqib Nabi’s snub despite st – رنجی ٹرافی کے بہترین بولر عاقب نبی کی نظر اندازگی پر سنجے منجریکر برہم
رنجی ٹرافی کی شاندار کارکردگی اور قومی ٹیم سے دوری
بھارتی کرکٹ کے حلقوں میں ان دنوں ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ سابق بھارتی بلے باز سنجے منجریکر نے حال ہی میں اس بات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے کہ جموں و کشمیر کے نوجوان فاسٹ بولر عاقب نبی کو افغانستان کے خلاف ہونے والے واحد ٹیسٹ میچ کے لیے بھارتی اسکواڈ میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ عاقب نبی نے رنجی ٹرافی کے حالیہ ایڈیشن میں جس طرح کی بولنگ کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے بعد ان کا ٹیم سے باہر رہنا ماہرین کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے۔
کارکردگی جو نظر انداز نہیں کی جا سکتی
عاقب نبی نے رنجی ٹرافی میں مسلسل دو سیزنز سے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا ہے۔ جموں و کشمیر کو ان کے پہلے ٹائٹل تک پہنچانے میں عاقب کا کردار کلیدی رہا ہے۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو گزشتہ دو سیزنز میں انہوں نے 18 میچوں میں مجموعی طور پر 104 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان کی اوسط 13.14 رہی ہے اور انہوں نے 13 مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس کے باوجود، انہیں انڈیا ‘اے’ ٹیم تک میں جگہ نہ ملنا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
سنجے منجریکر کا موقف: یہ رنجی ٹرافی کی توہین ہے
ایک پوڈ کاسٹ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سنجے منجریکر نے کہا کہ عاقب نبی کا نظر انداز کیا جانا نہ صرف کھلاڑی کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ یہ ڈومیسٹک کرکٹ کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ یعنی رنجی ٹرافی کی بھی توہین ہے۔ منجریکر کا ماننا ہے کہ اگر رنجی ٹرافی میں ایسی شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں موقع نہیں ملے گا، تو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اسے ‘مضحکہ خیز’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب محمد شامی اور محمد سراج جیسے اہم بولرز ٹیم میں موجود نہیں، تو ایسے میں عاقب جیسے پرفارمر کو موقع دینا وقت کی ضرورت تھی۔
آئی پی ایل 2026 کا اثر؟
کچھ حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ عاقب نبی کی ٹیم میں عدم شمولیت کی وجہ ان کی آئی پی ایل 2026 کی خراب فارم ہو سکتی ہے۔ دہلی کیپٹلز کی جانب سے کھیلتے ہوئے عاقب پانچ میچوں میں کوئی وکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے اور ان کی اکانومی ریٹ بھی 11 سے زائد رہی تھی۔ تاہم، منجریکر کا استدلال ہے کہ کسی کھلاڑی کی طویل فارمیٹ کی کارکردگی کو مختصر فارمیٹ کی ناکامی پر قربان کرنا غلط فیصلہ ہے۔
اسکواڈ میں دیگر اہم تبدیلیاں
افغانستان کے خلاف ہونے والے اس ٹیسٹ میچ کے لیے اعلان کردہ اسکواڈ میں کئی اور اہم تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔ ریشبھ پنت کی جگہ کے ایل راہول کو نائب کپتانی سونپی گئی ہے۔ اس کے علاوہ رویندر جڈیجا اور محمد شامی کو ورک لوڈ مینجمنٹ کے پیش نظر آرام دیا گیا ہے۔ ٹیم میں انسانی سوتھر، ہرش دوبے اور گورنور برار جیسے نئے چہروں کو پہلی بار قومی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
نتیجہ
عاقب نبی کا معاملہ بھارتی سلیکشن کمیٹی کے معیار پر سوال اٹھاتا ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ کے ہیروز کو اگر بروقت موقع نہ ملا تو یہ بھارتی کرکٹ کے مستقبل کے لیے تشویشناک ہو سکتا ہے۔ شائقین کرکٹ اب یہ دیکھنا چاہیں گے کہ کیا سلیکٹرز مستقبل میں عاقب کی محنت کا صلہ انہیں ٹیم میں شامل کر کے دیں گے یا یہ شاندار بولر صرف ڈومیسٹک لیول تک ہی محدود رہ جائے گا۔
