“No other business would have delivered a 20-fold return” – Arun Dhumal makes ma – آئی پی ایل کی شاندار کامیابی: ارون دھومل کا 20 گنا منافع کا دعویٰ
آئی پی ایل کا معاشی انقلاب: 20 گنا منافع کی کہانی
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) نہ صرف کرکٹ کے میدان میں بلکہ عالمی کاروباری مارکیٹ میں بھی ایک ایسی طاقت بن کر ابھری ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ حال ہی میں آئی پی ایل گورننگ کونسل کے چیئرمین ارون سنگھ دھومل نے لیگ کی شاندار مالی ترقی پر بات کرتے ہوئے اسے دنیا کی امیر ترین کرکٹ لیگ قرار دیا ہے۔
میڈیا رائٹس میں حیران کن اضافہ
ارون دھومل نے انکشاف کیا کہ آئی پی ایل کے میڈیا رائٹس کی قدر میں اضافہ ناقابل یقین رہا ہے۔ 2008 سے 2017 کے پہلے دس سالوں میں یہ حقوق 8,200 کروڑ روپے میں فروخت ہوئے تھے۔ اگلے پانچ سالہ سائیکل (2018-2022) میں یہ قیمت بڑھ کر 16,347 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، اور موجودہ سائیکل (2023-2027) میں یہ رقم 48,390 کروڑ روپے کے ریکارڈ تک جا پہنچی ہے۔
کاروباری کامیابی کا فارمولا
دھومل کے مطابق: “گزشتہ 18 سالوں میں کوئی دوسرا کاروبار ایسا نہیں ہے جس نے 20 گنا منافع دیا ہو۔” انہوں نے مزید کہا کہ این ایف ایل (NFL) جیسی بڑی عالمی اسپورٹس لیگز کو بھی اس مقام تک پہنچنے میں دہائیاں لگیں، جبکہ آئی پی ایل نے بہت کم وقت میں یہ سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے دو اہم عوامل ہیں:
- بھارت کا کرکٹ جنون: بھارت میں کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک مذہب ہے جو پورے ملک کو جوڑتا ہے۔
- کھیل کا معیار: آئی پی ایل کے میچوں کا سنسنی خیز ہونا، جہاں ہر بال ایک ایونٹ بن جاتی ہے، شائقین کو 3.5 گھنٹے تک اسکرین سے جوڑے رکھتا ہے۔
ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل حقوق کا الگ ہونا
موجودہ معاہدے کے تحت ڈزنی اسٹار کے پاس ٹیلی ویژن رائٹس ہیں جبکہ وائیکام 18 کے پاس ڈیجیٹل اسٹریمنگ کے حقوق ہیں۔ ان حقوق کو الگ الگ فروخت کرنے کی حکمت عملی نے لیگ کی قدر کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ ارون دھومل کو یقین ہے کہ مستقبل کے میڈیا رائٹس سائیکل میں بھی یہ ترقی کا سفر اسی رفتار سے جاری رہے گا۔
ٹیلنٹ کی نشوونما اور گہرائی
آئی پی ایل صرف مالی منافع تک محدود نہیں ہے۔ ارون دھومل نے اس بات پر زور دیا کہ اس لیگ نے بھارتی کرکٹ میں ٹیلنٹ کو نکھارنے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا: “بھارت میں ٹیلنٹ ہمیشہ سے موجود تھا، لیکن آئی پی ایل نے انہیں پلیٹ فارم فراہم کیا۔ آج ہمارے پاس اتنا ٹیلنٹ ہے کہ ہم ایک ساتھ تین مختلف سیریز کے لیے تین الگ ٹیمیں میدان میں اتار سکتے ہیں اور تینوں ہی مسابقتی ہوں گی۔”
مستقبل کی توقعات
راجستھان رائلز اور رائل چیلنجرز بنگلورو جیسے فرنچائزز کے حالیہ سودوں کا ذکر کرتے ہوئے دھومل نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا لیگ پر اعتماد اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آئی پی ایل کا سفر ابھی جاری ہے۔ انہوں نے فرنچائز پارٹنرز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی شراکت داری نے لیگ کو آج اس مقام پر پہنچایا ہے جہاں یہ دنیا کی سب سے بڑی اسپورٹس پراپرٹی بن چکی ہے۔
آئی پی ایل کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب کھیل کے ساتھ بہترین کاروباری ماڈل اور مداحوں کی حمایت شامل ہو جائے تو نتائج معجزاتی ہوتے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں یہ لیگ مزید کون سے ریکارڈ توڑتی ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔
