بھارتی کرکٹ میں بڑا فیصلہ: روہت شرما اور ویرات کوہلی کی راہیں جدا، بی سی سی آئی کا نیا روڈ میپ
بھارتی کرکٹ میں نئی تبدیلیوں کا آغاز
بھارتی کرکٹ کے دو بڑے ستون، ویرات کوہلی اور روہت شرما، جو برسوں سے ٹیم انڈیا کی کامیابیوں کا مرکز رہے ہیں، اب ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد، یہ دونوں لیجنڈز اب اپنی توجہ ون ڈے انٹرنیشنل (ODI) کرکٹ پر مرکوز کیے ہوئے ہیں، جس کا حتمی ہدف آئی سی سی ورلڈ کپ 2027 ہے۔ تاہم، بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) اور سلیکشن کمیٹی اب ان دونوں کھلاڑیوں کے حوالے سے ایک الگ اور نئی پالیسی اپنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
روہت شرما اور ویرات کوہلی: اب ایک جیسا معیار نہیں
اب تک یہ روایت رہی ہے کہ ان دونوں تجربہ کار کھلاڑیوں کو ایک ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا تھا، لیکن حالیہ رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی کی سوچ میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ ٹیم مینجمنٹ اب ان دونوں کھلاڑیوں کے لیے الگ الگ روڈ میپ تیار کر رہی ہے۔ اس تبدیلی کی بڑی وجہ فٹنس، فارم اور طویل المدتی دستیابی ہے، جو 2027 کے ورلڈ کپ کے پیش نظر انتہائی اہم ہو چکے ہیں۔
روہت شرما کی فٹنس اور بیٹنگ اپروچ پر سوالات
اگرچہ روہت شرما نے اپنی فٹنس پر کافی کام کیا ہے اور وہ ماضی کے مقابلے میں بہتر نظر آتے ہیں، لیکن سلیکٹرز کے ذہن میں اب بھی شکوک و شبہات موجود ہیں۔ ٹیم مینجمنٹ کو خدشہ ہے کہ آیا روہت کا جسم 50 اوورز کے طویل فارمیٹ کے سخت تقاضوں کو 2027 تک مکمل طور پر برداشت کر سکے گا۔ اس کے علاوہ، ان کی بیٹنگ اپروچ بھی زیر بحث ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ کپتانی سے ہٹنے کے بعد سے روہت اپنی اس ‘الٹرا ایگریسیو’ بیٹنگ اسٹائل کو مستقل برقرار نہیں رکھ پا رہے جو کبھی ان کی سب سے بڑی طاقت تھی۔
ویرات کوہلی کا کیس مختلف کیوں ہے؟
اس کے برعکس، ویرات کوہلی کو ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے بالکل مختلف نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ کوہلی کی فٹنس، فارم، اور کھیل کے تئیں لگن اب بھی عالمی معیار کی ہے۔ آئی پی ایل 2026 میں ان کی شاندار کارکردگی، جس میں انہوں نے 13 میچوں میں 54.20 کی اوسط اور 164.74 کے اسٹرائیک ریٹ سے 542 رنز بنائے ہیں، یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ بدستور فارم میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بورڈ انہیں روہت شرما کے ساتھ ایک ہی زمرے میں رکھنے سے گریز کر رہا ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ بی سی سی آئی کی میڈیکل ٹیم سے مشاورت کے بعد روہت شرما کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ٹیم مینجمنٹ اب جذبات سے ہٹ کر خالصتاً کارکردگی اور فٹنس کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی جانب گامزن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں بھارتی ون ڈے ٹیم میں ہمیں مزید تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں، کیونکہ سلیکٹرز مستقبل کے لیے ایک ایسی ٹیم تشکیل دینا چاہتے ہیں جو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مکمل طور پر تیار ہو۔
نتیجہ
کرکٹ شائقین کے لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آنے والی افغانستان کے خلاف سیریز میں روہت شرما اور ویرات کوہلی کس انداز میں میدان میں اترتے ہیں۔ کیا روہت اپنی کھوئی ہوئی جارحانہ فارم واپس حاصل کر پائیں گے، یا بورڈ کو ان کی جگہ نئے نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کا سخت فیصلہ کرنا پڑے گا؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن ایک بات واضح ہے کہ بھارتی کرکٹ میں اب ‘رو-کو’ کے دور کا ایک نیا باب شروع ہو رہا ہے، جہاں ہر فیصلے کی بنیاد صرف اور صرف مستقبل کی کامیابی پر ہوگی۔
