Cricket News

بنگلورو کا نیا کرکٹ اسٹیڈیم: 943 کروڑ روپے کے منصوبے سے کرکٹ کا نیا باب

Sameer Joshi · · 1 min read
Share

بنگلورو میں کرکٹ کا نیا سفر: 943 کروڑ روپے کا عظیم منصوبہ

بنگلورو کا نام کرکٹ کی دنیا میں ہمیشہ سے نمایاں رہا ہے، لیکن حالیہ عرصے میں ایم چناسوامی اسٹیڈیم کے ارد گرد پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات اور خاص طور پر آئی پی ایل کے دوران بھگدڑ کے حادثات نے شہر کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس پس منظر میں، حکومتِ کرناٹک نے اب ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے ایک نئے اور جدید کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کا اعلان کیا ہے، جس پر 943 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی۔

نیا اسٹیڈیم: ایک نظر میں

یہ نیا مجوزہ اسٹیڈیم بنگلورو کے قریب انیکل (Anekal) میں بینرگھٹا نیشنل پارک کے نزدیک 75 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی سب سے خاص بات اس کی گنجائش ہے؛ توقع ہے کہ اس اسٹیڈیم میں تقریباً 80,000 شائقین کے بیٹھنے کی سہولت ہوگی، جو اسے نریندر مودی اسٹیڈیم کے بعد بھارت کا دوسرا بڑا کرکٹ اسٹیڈیم بنا دے گی۔

منصوبے کا پس منظر اور چناسوامی کی مشکلات

ایم چناسوامی اسٹیڈیم طویل عرصے تک کرکٹ کا مرکز رہا ہے، جہاں آر سی بی (RCB) اپنے ہوم میچز کھیلتی رہی ہے۔ تاہم، حفاظتی انتظامات میں کوتاہی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کے باعث اس وینیو کو آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ 2025 اور مہاراجہ ٹرافی جیسی اہم ایونٹس کی میزبانی سے ہاتھ دھونا پڑے۔ یہاں تک کہ آئی پی ایل 2026 کا فائنل بھی اس اسٹیڈیم سے منتقل کر دیا گیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ بنگلورو کو ایک متبادل اور محفوظ وینیو کی اشد ضرورت ہے۔

فنڈنگ اور حکومتی موقف

وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور سینئر رہنما سدارامیا کی جانب سے اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے کے لیے ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا براہِ راست استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بجائے، فنڈز کرناٹک ہاؤسنگ بورڈ کی زمینوں کی نیلامی کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔ حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس اسٹیڈیم کے اعلان کے بعد آس پاس کی زمینوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اس منصوبے کی معاشی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

ماحولیاتی چیلنجز اور قانونی رکاوٹیں

اگرچہ یہ منصوبہ کرکٹ شائقین کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے، لیکن اسے کچھ مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ اسٹیڈیم کا مقام بینرگھٹا نیشنل پارک کے ماحول دوست زون (Eco-sensitive zone) کے قریب واقع ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے اس مقام پر تعمیرات کے حوالے سے سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور یہ معاملہ فی الحال سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے۔ حکومت کو اس قانونی اور ماحولیاتی جنگ سے نمٹنا ہوگا تاکہ یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

بنگلورو کرکٹ کا مستقبل

اس نئے اسٹیڈیم کی تعمیر سے بنگلورو کی عالمی کرکٹ کے نقشے پر پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔ یہ صرف آئی پی ایل میچوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ آئی سی سی ٹورنامنٹس، کنسرٹس اور دیگر بڑے کھیلوں کے مقابلوں کے لیے ایک بہترین مقام ثابت ہوگا۔ اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے، تو بنگلورو کے کرکٹ شائقین کو ایک محفوظ، جدید اور شاندار ماحول میں کھیل سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا۔

خلاصہ یہ کہ چناسوامی اسٹیڈیم کی ناکامیوں کے بعد، یہ 943 کروڑ روپے کا منصوبہ بنگلورو کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ماحولیاتی خدشات کو دور کرتے ہوئے کتنی جلدی اس عظیم الشان منصوبے کو عملی جامہ پہناتی ہے۔

Avatar photo
Sameer Joshi

Sameer Joshi analyzes franchise performance, team rankings, and historical IPL records.