سی ایس اے نے گھریلو شائقین کو نیو سال ٹیسٹ میں نظرانداز کیا، ٹکٹوں کی فروخت پر تشویش
نیولینڈز ٹیسٹ: گھریلو شائقین کیلئے دروازے بند؟
نیولینڈز، جنوبی افریقہ — کرکٹ جنوبی افریقہ (سی ایس اے) نے نیو سال ٹیسٹ کے دوران نیولینڈز کے خوبصورت منظر کے سامنے مقامی شائقین کے لیے جگہ بنانے کے بجائے تجارتی فوائد کو ترجیح دی ہے۔ جنوبی افریقہ کے شائقین، جو گزشتہ سال گھریلو ٹیسٹ کرکٹ سے محروم رہے، اب اگلے سال جنوری میں جب ٹیم ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن کے طور پر میدان میں اترے گی، تو وہ اپنی ہی سرزمین پر اقلیت میں نظر آئیں گے۔
ٹکٹ کی تنصیب: 80% غیر عام شائقین کے لیے
نیولینڈز سٹیڈیم کی کل گنجائش 17,544 ہے، لیکن صرف 13 فیصد (تقریباً 1,600 فی دن) ٹکٹ عام عوام کے لیے جاری کیے گئے۔ جب ٹکٹ فروخت کا باب کھلا تو یہ منٹوں میں ختم ہو گئے۔ اس کے پیچھے وجوہات واضح ہیں:
- 39% — بین الاقوامی اور مقامی ٹور پیکجز کے ذریعے فروخت
- 41% — ہسپتالٹی، اسپانسرز، ذیلی اسٹیک ہولڈرز، میڈیا، اور مفت تقسیم شدہ ٹکٹ
- 13% — عام عوام کے لیے (صرف 9% شروع میں جاری، باقی بعد میں)
یہ مطلب ہے کہ 80 فیصد سے زیادہ نشستیں وہاں موجود ہوں گی جو گھریلو کرکٹ کے بجائے بیرونی منافع کی ترجیح کو ظاہر کرتی ہیں۔
شائقین کی ناراضگی، ماہرین کی تشویش
مقامی ریڈیو اسٹیشنز جیسے CapeTalk نے شائقین کی ناراضگی کو فوری طور پر اٹھایا۔ سپورٹس بزنس کے محقق نقوبیلے نڈلوو نے کہا کہ “سی ایس اے نے اساساً اپنے گھریلو شائقین کو باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔” ہاں، تجارتی نقطہ نظر سے اقدام کو سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اس کا نقصان شائقین کی وفاداری کی شکل میں ہو سکتا ہے۔
منافع کی ترجیح، لیکن کیا قیمت چکائی جائے گی؟
سی ایس اے کے پاس مالی طور پر مضبوط رپورٹ ہے، گزشتہ سال 238 ملین رینڈ (تقریباً 13.7 ملین ڈالر) کا منافع ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم، 2025-26 کے موسم میں صرف ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ٹی20 میچ تھے، جس سے آمدنی متاثر ہوئی۔ اب 2026-27 کا موسم انگلینڈ اور آسٹریلیہ کے دورے کے ساتھ منافع کے لیے اہم ہے — خاص طور پر انگلینڈ، جن کے ساتھ ہمیشہ وابستہ بارمی آرمی اور زیادہ بجٹ والے ٹورسٹ ہوتے ہیں۔
اسی وجہ سے ٹکٹوں کو ہسپتالٹی اور ٹور آپریٹرز کے ذریعے فروخت کرنا سی ایس اے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ گھریلو شائقین کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جائے۔
اب بھی امید ہے
سی ایس اے نے اعلان کیا ہے کہ نیولینڈز ٹیسٹ کے پہلے چار دن “فروخت ہو چکے” ہیں، لیکن عملی طور پر یہ سچ نہیں۔ 13 فیصد عوامی ٹکٹوں میں سے صرف 9 فیصد جاری کیے گئے ہیں۔ باقی 4 فیصد، نا استعمال شدہ ٹکٹس اور سائٹ اسکرین کی نشستیں (جیسے جیسے پچ کی ترتیب طے ہوگی) بعد میں دوبارہ فروخت کے لیے آئیں گی۔
اگرچہ یہ اقدامات منافع کے لیے درست ہو سکتے ہیں، لیکن سی ایس اے کو یہ سوچنا ہوگا کہ کرکٹ کی روح کس کے پاس ہے — بیرونی ٹورسٹس کے پاس یا وہ لاکھوں مقامی شائقین جو سال بھر کرکٹ کی تمنا کرتے ہیں؟
