Hemang Badani reveals biggest reason behind Delhi Capitals’ IPL 2026 disaster
آئی پی ایل 2026: دہلی کیپیٹلز کا سفر اور ناکامی کی وجوہات
دہلی کیپیٹلز (DC) ایک بار پھر انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کی ٹرافی جیتنے کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے میں ناکام رہی۔ 2026 کے سیزن کا آغاز تو بہت شاندار انداز میں ہوا، لیکن ٹیم اہم مواقع پر بکھر گئی اور مسلسل پانچویں سال پلے آف کی دوڑ سے باہر ہو گئی۔ ایکسر پٹیل کی قیادت میں کھیلنے والی دہلی کی ٹیم 14 میچوں میں سے 7 میں جیت اور 7 میں شکست کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر چھٹے نمبر پر رہی۔
Hemang Badani reveals biggest reason behind Delhi Capitals’ IPL 2026 disaster
کولکتہ میں آخری میچ میں کے کے آر کے خلاف 40 رنز سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد، دہلی کیپیٹلز کے ہیڈ کوچ ہیمانگ بدانی نے ٹیم کی ناکامی کے اسباب پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم پورے ٹورنامنٹ میں تسلسل برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔ بدانی نے تسلیم کیا کہ دہلی کے پاس پلے آف میں جگہ بنانے کے کئی مواقع موجود تھے، لیکن کھلاڑی دباؤ کو سنبھالنے میں ناکام رہے۔
کلیدی لمحات کا ضیاع
ہیمانگ بدانی نے پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ ٹیم نے ان نازک لمحات کو نہیں پکڑا جو میچ کا پانسہ پلٹ سکتے تھے۔ گجرات ٹائٹنز کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر صرف ایک رن سے شکست اور پنجاب کنگز کے خلاف 264 رنز کے بڑے ہدف کا دفاع نہ کر پانا ٹیم کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ رہا۔ بدانی کے مطابق، ٹیم نے کئی بار میچوں پر اپنی گرفت مضبوط کی لیکن اسے انجام تک پہنچانے میں ناکام رہی۔
فیلڈنگ اور بولنگ کے مسائل
ٹیم کی ناکامی میں ناقص فیلڈنگ کا بھی بڑا ہاتھ رہا۔ چنئی سپر کنگز اور سن رائزرز حیدرآباد جیسی ٹیموں کے خلاف اہم کیچز چھوڑنا دہلی کو مہنگا پڑا۔ اس کے علاوہ، بولنگ یونٹ کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی۔ 14 میچوں میں دہلی کے بولرز مجموعی طور پر صرف 64 وکٹیں حاصل کر سکے، جو کہ اس سیزن میں کسی بھی ٹیم کی جانب سے سب سے کم وکٹیں تھیں۔
بیٹنگ میں عدم تسلسل
بیٹنگ لائن اپ بھی مسلسل مشکلات کا شکار رہی۔ خاص طور پر مڈل آرڈر دباؤ میں بری طرح ناکام رہا اور اہم میچوں میں یکے بعد دیگرے وکٹیں گرنے سے ٹیم مومنٹم کھو بیٹھتی تھی۔ ہیمانگ بدانی نے تسلیم کیا کہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ٹیم نے بہت زیادہ وکٹیں گچھوں کی صورت میں گنوائیں، جس کا خمیازہ انہیں پوائنٹس ٹیبل پر بھگتنا پڑا۔
کیا مچل اسٹارک کی کمی اہم تھی؟
جب بدانی سے پوچھا گیا کہ کیا مچل اسٹارک کی ابتدائی میچوں میں عدم دستیابی ٹیم کی ناکامی کا بڑا سبب تھی، تو انہوں نے اس تاثر کو مسترد کر دیا۔ بدانی کا ماننا ہے کہ اسکواڈ میں اتنی صلاحیت موجود تھی کہ وہ آسٹریلوی پیسر کے بغیر بھی پلے آف کے لیے کوالیفائی کر سکتی تھی۔ آخر میں، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر ٹیم نے چھوٹے چھوٹے مارجنز کو سنبھالا ہوتا تو آج دہلی کیپیٹلز ٹورنامنٹ میں مزید آگے ہوتی۔ یہ سیزن دہلی کے لیے سبق آموز رہا ہے اور آنے والے وقتوں میں انہیں اپنی بنیادی غلطیوں پر قابو پانا ہوگا۔
