Jennings, Hurst, McDermott fifties overpower Outlaws – جیننگز، ہرسٹ، میکڈرمٹ کی نصف سنچریوں نے آؤٹ لاز کو زیر کر دیا – وائٹلٹی بلاسٹ
وائٹلٹی بلاسٹ: جیننگز، ہرسٹ، میکڈرمٹ کی نصف سنچریوں نے لنکاشائر کو فتح سے ہمکنار کیا
ایمیرٹس اولڈ ٹریفورڈ کے روشن میدان پر کھیلے گئے وائٹلٹی بلاسٹ کے ایک سنسنی خیز افتتاحی ہوم میچ میں، لنکاشائر نے نوٹس آؤٹ لاز کو 39 رنز کے واضح مارجن سے شکست دے کر اپنی مہم کا فاتحانہ آغاز کیا۔ اس شاندار کامیابی کی بنیاد کیٹن جیننگز، میٹی ہرسٹ اور بین میکڈرمٹ کی تین بہترین نصف سنچریوں نے رکھی، جنہوں نے لنکاشائر کے مجموعی سکور کو 208-4 تک پہنچایا۔ اس کے بعد ٹام ہارٹلی کی شاندار باؤلنگ نے چار اہم وکٹیں حاصل کر کے نوٹنگھم شائر کو ہدف سے کافی دور رکھا۔ یہ ایک ایسا مقابلہ تھا جہاں بلے بازوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور گیند بازوں نے اپنے فن کا جادو چلایا، جس کا نتیجہ ‘Jennings, Hurst, McDermott fifties overpower Outlaws’ کی ایک مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔
لنکاشائر کی مضبوط بلے بازی: جیننگز، ہرسٹ اور میکڈرمٹ کا جادو
ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کرنے کے بعد، لنکاشائر کی اننگز کا آغاز کچھ خاص نہیں رہا جب مائیکل جونز محض 1 رن بنا کر جلد ہی پویلین لوٹ گئے۔ تاہم، اس ابتدائی جھٹکے کے بعد، کپتان کیٹن جیننگز اور نوجوان بلے باز میٹی ہرسٹ نے مورچے سنبھالے اور ایک مضبوط شراکت قائم کی۔ دونوں نے مل کر 10.2 اوورز میں 97 رنز کا اضافہ کیا، جس نے لنکاشائر کی اننگز کو استحکام فراہم کیا۔ پاور پلے کے اختتام تک لنکاشائر کا سکور 55-1 تھا، جو ان کی مضبوطی کا اشارہ تھا۔
کیٹن جیننگز نے اپنی 71 ویں اننگز میں لنکاشائر کے لیے 2,000 ٹی ٹوئنٹی رنز مکمل کر کے ایک نیا سنگ میل عبور کیا، اور یہ کارنامہ انہوں نے لیام لیونگ اسٹون کے ریکارڈ سے چار اننگز پہلے انجام دیا۔ انہوں نے 31 گیندوں پر 51 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں 8 چوکے اور ایک دلکش چھکا شامل تھا۔ جیننگز اس وقت آؤٹ ہوئے جب انہوں نے مڈ وکٹ پر کیچ تھما دیا۔ میٹی ہرسٹ، جو اس سیزن میں رنز بنانے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے، نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 40 گیندوں پر 57 رنز بنائے، جس میں چار فلک بوس چھکے شامل تھے، جو سب کے سب مڈ وکٹ کے اوپر سے مارے گئے۔ ہرسٹ کی یہ اننگز ان کے اعتماد کی بحالی کا ثبوت تھی۔
جیننگز اور ہرسٹ کی شراکت نے بین میکڈرمٹ کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم تیار کیا، جنہوں نے آخری چھ اوورز میں دھماکہ خیز بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔ میکڈرمٹ نے صرف 22 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی، جو لائٹننگ کے ریکارڈ سے صرف دو گیندیں کم تھی۔ انہوں نے ناٹنگھم شائر کے باؤلرز پر قہر بن کر ٹوٹا اور اپنی 27 گیندوں پر ناقابل شکست 63 رنز کی اننگز میں چار چھکے اور چار چوکے شامل کیے۔ ایک خاص لمحہ اس وقت آیا جب میکڈرمٹ نے پیننگٹن کی نو بال پر چھکا لگایا اور پھر فری ہٹ پر بھی ایک اور چھکا جڑ دیا، اس طرح ایک ہی قانونی گیند پر 13 رنز حاصل کیے۔ ان کی اس دھماکہ خیز بلے بازی کی بدولت لنکاشائر نے آخری پانچ اوورز میں 71 رنز لوٹے اور 208-4 کا ایک بڑا مجموعہ حاصل کیا، جو آؤٹ لاز کے خلاف ان کا دوسرا سب سے بڑا ٹی ٹوئنٹی سکور ہے۔
ناٹنگھم شائر کی جدوجہد اور ہارٹلی کا جادو
209 رنز کے ہدف کے تعاقب میں، ناٹنگھم شائر کے جو کلارک اور جارج منسی نے 5.1 اوورز میں 58 رنز کی مضبوط اوپننگ شراکت کے ساتھ ایک امید افزا آغاز کیا۔ تاہم، میچ کا رخ اس وقت موڑا جب جیک بلاتھروک کے زخمی ہونے کے بعد ٹام ہارٹلی کو چھٹے اوور کی پہلی گیند پر باؤلنگ کے لیے لایا گیا اور انہوں نے اپنی پہلی ہی گیند پر جو کلارک کو 21 رنز پر بولڈ کر دیا۔ یہ وکٹ ایک اہم موڑ ثابت ہوئی، جس کے بعد نوٹنگھم شائر نے محض 15 رنز کے عوض تین وکٹیں گنوا دیں۔
منسی 37 رنز بنا کر جارج بالڈرسن کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے، اور اس کے فوراً بعد ٹام مورس بھی بالڈرسن کی گیند پر 6 رنز بنا کر مڈ وکٹ پر ہارٹلی کے ہاتھوں کیچ تھما بیٹھے۔ اس طرح 8 اوورز کے بعد آؤٹ لاز کا سکور 73-3 ہو گیا اور مطلوبہ رن ریٹ تیزی سے بڑھنے لگا۔ جیسے جیسے دباؤ بڑھتا گیا، نوٹنگھم شائر کی وکٹیں مسلسل گرتی گئیں۔ ڈیبیوٹنٹ ہیری سنگھ نے بھی تین وکٹوں میں اپنا کردار ادا کیا، جس میں جیک ہینز اور فریڈی میک کین کی وکٹیں شامل تھیں۔
میچ کا نتیجہ اس وقت تقریباً طے ہو چکا تھا جب ٹام ہارٹلی نے اپنی شاندار باؤلنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور 16 ویں اوور میں دو گیندوں کے وقفے سے بینی ہاویل اور جو پوک لنگٹن کو آؤٹ کر کے اپنی 4-20 کی بہترین کارکردگی مکمل کی۔ ثاقب محمود نے بھی لنکاشائر کے لیے اپنا 50 واں ٹی ٹوئنٹی وکٹ حاصل کیا جب فرحان احمد 7 رنز بنا کر جیننگز کے ہاتھوں لانگ آف پر کیچ آؤٹ ہوئے۔
نوٹنگھم شائر آؤٹ لاز اپنی اننگز کے اختتام پر 9 وکٹوں کے نقصان پر 169 رنز ہی بنا سکے، جس میں ڈلن پیننگٹن 39 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ اس طرح لنکاشائر نے یہ مقابلہ 39 رنز سے جیت لیا، جو ان کی شاندار کارکردگی اور ٹیم ورک کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
