Joy dreams of historic Bangladesh Test win in Australia
آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: محمود الحسن جوئے کا بڑا عزم
بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے لیے رواں سال کا اگست کا مہینہ انتہائی اہم ثابت ہونے والا ہے، جب ٹیم ٹیسٹ سیریز کے لیے آسٹریلیا کا دورہ کرے گی۔ اس دورے سے قبل بنگلہ دیشی اوپنر محمود الحسن جوئے کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم دنیا کی کسی بھی مضبوط حریف کے خلاف مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک حالیہ پریس کانفرنس کے دوران، انہوں نے آسٹریلیا کی سرزمین پر ایک تاریخی ٹیسٹ میچ جیتنے کے اپنے عزم کا کھل کر اظہار کیا۔
دورے کا پس منظر اور تیاری
آسٹریلیا کے دورے سے قبل، کینگروز کی ٹیم جون میں بنگلہ دیش کا دورہ کرے گی جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے۔ اس کے بعد اگست میں بنگلہ دیشی ٹیم آسٹریلیا کا رخ کرے گی۔ اگرچہ محدود اوورز کی کرکٹ اپنی اہمیت رکھتی ہے، لیکن محمود الحسن جوئے کی توجہ کا مرکز مکمل طور پر ریڈ بال کرکٹ اور ٹیسٹ میچز کی سخت چیلنجنگ صورتحال ہے۔
اسپورٹنگ وکٹوں کا فائدہ
جب جوئے سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا بنگلہ دیشی ٹیم آسٹریلیا کی مشکل پچز پر پانچ دن تک مقابلہ کر سکتی ہے یا وہاں فتح کا خواب دیکھنا ممکن ہے، تو ان کا جواب کافی پر اعتماد تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حال ہی میں بنگلہ دیش میں تیار کردہ اسپورٹنگ وکٹوں نے ٹیم کا اعتماد بحال کیا ہے۔
محمود الحسن جوئے نے کہا: “اگر آپ گزشتہ چار یا پانچ ہوم سیریز دیکھیں، تو وکٹیں واقعی اسپورٹنگ تھیں۔ وہاں اچھال (باؤنس) موجود تھا، بلے بازوں نے رنز بنائے، اور گیند بازوں نے بھی وکٹیں حاصل کیں۔ یہ ہمارے لیے ایک بہت مثبت علامت ہے۔ اگر ہمیں آسٹریلیا میں بھی اسی طرح کی وکٹیں ملیں، تو اس سے ہماری ٹیم کو بہت مدد ملے گی۔”
ایک تاریخی کامیابی کا خواب
آسٹریلیا کی سرزمین پر ٹیسٹ میچ جیتنا کسی بھی ایشیائی ٹیم کے لیے ایک بہت بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش اب تک آسٹریلیا میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ جیتنے میں ناکام رہا ہے۔ تاہم، جوئے کا خیال ہے کہ یہ ٹیم تاریخ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: “یقیناً، ہر کرکٹر کا خواب ہوتا ہے کہ وہ آسٹریلیا میں کھیلے۔ اور اگر ہم وہاں ایک ٹیسٹ میچ جیت سکیں، تو یہ تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔”
بولنگ اور بیٹنگ کا توازن
محمود الحسن جوئے کے مطابق، ٹیم کی حالیہ کارکردگی نے کھلاڑیوں میں نئی روح پھونک دی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر بنگلہ دیشی بلے باز بورڈ پر کافی رنز لگانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو ان کے پاس موجود معیاری بولنگ اٹیک کسی بھی حریف کو دباؤ میں لانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جوئے نے زور دیا کہ بنگلہ دیش اب اس سطح پر آ چکا ہے جہاں وہ کسی بھی بڑی ٹیم کو آنکھیں دکھا سکتا ہے۔
شیڈول اور توقعات
بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا آغاز اگست میں ہوگا۔ پہلا ٹیسٹ میچ 13 سے 17 اگست تک ڈارون میں کھیلا جائے گا، جبکہ دوسرا اور آخری ٹیسٹ میچ 21 سے 25 اگست تک میکے کے مقام پر منعقد ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بنگلہ دیش اپنے اس اعتماد کو میدانِ عمل میں نتائج کی صورت میں ڈھال پائے گا یا نہیں۔
- پہلا ٹیسٹ: 13-17 اگست، ڈارون۔
- دوسرا ٹیسٹ: 21-25 اگست، میکے۔
کرکٹ کے شائقین اس سیریز کے منتظر ہیں، کیونکہ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا محمود الحسن جوئے کا خواب حقیقت کا روپ دھارتا ہے یا نہیں۔
