Cricket News

After Rishabh Pant, Justin Langer Next In Line To Be Fired By LSG? Report Answer – کیا جسٹن لینگر لکھنؤ سپر جائنٹس سے فارغ ہونے والے ہیں؟ تازہ ترین اپڈیٹس

Noor Fatima · · 1 min read
Share

لکھنؤ سپر جائنٹس میں ہلچل: رشبھ پنت کے بعد کیا جسٹن لینگر کی باری ہے؟

آئی پی ایل 2026 کے کوالیفائر 2 سے قبل ہی لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے کیمپ سے ایک بڑی خبر سامنے آئی، جس نے کرکٹ کے حلقوں میں کھلبلی مچا دی۔ لیگ کے سب سے مہنگے کھلاڑی رشبھ پنت نے ایک اور مایوس کن سیزن کے اختتام پر اپنی کپتانی سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹیم کے ڈائریکٹر کرکٹ ٹام موڈی نے وضاحت کی کہ یہ پنت کا ذاتی فیصلہ تھا تاکہ ٹیم کو 2027 کے سیزن کے لیے دوبارہ تشکیل دینے میں مدد مل سکے۔

آئی پی ایل 2026 میں ایل ایس جی کی ناکامی کی وجوہات

لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے آئی پی ایل 2026 کا سیزن کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ 2025 کے سیزن میں صرف 12 پوائنٹس حاصل کرنے کے بعد ٹیم سے امیدیں وابستہ تھیں، لیکن نئے سیزن میں بھی صورتحال بہتر نہ ہو سکی۔ ٹیم انتظامیہ نے مچل مارش کے ساتھ اوپننگ پارٹنر کے طور پر چار مختلف کھلاڑیوں کو آزمایا، جن میں رشبھ پنت بھی شامل تھے، مگر کوئی بھی تجربہ کامیاب نہ ہو سکا۔ نکولس پورن جیسے کھلاڑی کو ان کی قدرتی پوزیشن (ٹاپ 3) سے ہٹا کر کھلانا بھی ٹیم کی بڑی غلطی ثابت ہوئی۔

سیزن کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو ایل ایس جی 14 میں سے صرف 4 میچ جیت سکی اور پوائنٹس ٹیبل پر 10ویں نمبر پر رہی۔ رشبھ پنت نے اپنی کپتانی کے دوران کل 28 میچ کھیلے، جن میں سے وہ صرف 10 میچ جیت سکے، جس کا مطلب ہے کہ ان کی کامیابی کا تناسب صرف 35.71 فیصد رہا۔

کیا جسٹن لینگر کا عہد ختم ہو رہا ہے؟

جسٹن لینگر، جو گزشتہ چار سیزن سے ہیڈ کوچ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، اب شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ سیزن کے دوران رشبھ پنت نے کئی بار اس بات کا اظہار کیا کہ انہیں میچ کے دوران بہت زیادہ مشورے مل رہے ہیں، جس کا اشارہ بالواسطہ طور پر کوچنگ اسٹاف کی طرف تھا۔

اپنی سخت مزاجی کے لیے مشہور جسٹن لینگر کے دور میں ایل ایس جی صرف ایک بار (2023 میں) پلے آف تک پہنچ سکی ہے۔ تاہم، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اس ناکامی کے باوجود فرنچائز انہیں 2027 کے سیزن کے لیے ہیڈ کوچ کے طور پر برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ البتہ ٹام موڈی اور کین ولیمسن سمیت دیگر مینجمنٹ اسٹاف کے مستقبل کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

کپتانی کے لیے امیدوار کون ہیں؟

رشبھ پنت کے استعفیٰ کے بعد اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگلا کپتان کون ہوگا؟ ٹیم کے پاس قیادت کے لیے متعدد باصلاحیت نام موجود ہیں:

  • ایڈن مارکرم: وہ جنوبی افریقہ کی طرف سے کئی اہم ٹورنامنٹس میں ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں اور ایس اے 20 (SA20) میں دو ٹائٹل جیت چکے ہیں۔
  • مچل مارش: آسٹریلیا کی ٹی 20 انٹرنیشنل ٹیم کے کپتان مچل مارش ایک مضبوط امیدوار ہو سکتے ہیں۔
  • نکولس پورن: پورن دنیا بھر کی لیگز میں کپتانی کا تجربہ رکھتے ہیں، لیکن بیٹنگ میں غیر مستقل کارکردگی ان کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ لکھنؤ سپر جائنٹس اپنی ٹیم کی کایا پلٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اپناتی ہے۔ شائقین اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا یہ تبدیلیاں ٹیم کو دوبارہ کامیابی کی راہ پر گامزن کر سکیں گی یا نہیں۔

Avatar photo
Noor Fatima

Noor Fatima covers detailed player profiles, career milestones, and cricket biographies.