Mark Taylor blasts Cricket Australia’s plan to take BBL to India
کرکٹ آسٹریلیا کے متنازع فیصلے پر مارک ٹیلر کا ردعمل
کرکٹ کی دنیا میں اس وقت ایک بڑی بحث چھڑی ہوئی ہے کیونکہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ بگ بیش لیگ (BBL) کے اگلے سیزن کا آغاز بھارت میں ہو سکتا ہے۔ کرکٹ آسٹریلیا (CA) کی جانب سے پیش کردہ یہ خیال جہاں کچھ حلقوں میں جوش و خروش کا باعث بنا ہے، وہیں آسٹریلیا کے سابق عظیم کپتان مارک ٹیلر اس منصوبے سے بالکل خوش نہیں ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ ٹیسٹ کرکٹ کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
منصوبہ کیا ہے؟
حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، کرکٹ آسٹریلیا کے کچھ حکام نے رواں ماہ کے اوائل میں بھارت کا دورہ کیا تاکہ 2026-27 کے سیزن کے افتتاحی میچوں کے لیے دو بگ بیش لیگ ٹیموں کو بھارت بھیجنے کے معاہدے پر بات چیت کی جا سکے۔ اگرچہ کرکٹ آسٹریلیا نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے، لیکن میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سودا جلد طے پا سکتا ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ کے لیے خطرہ
مارک ٹیلر کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ بی بی ایل کا یہ شیڈول آسٹریلیا کی ہوم ٹیسٹ سیریز کے ساتھ ٹکرا رہا ہے۔ آسٹریلیا کو 9 دسمبر سے پرتھ میں نیوزی لینڈ کے خلاف چار ٹیسٹ میچوں کی اہم سیریز کھیلنی ہے، جبکہ بگ بیش لیگ بھی اسی عرصے میں شروع ہونے کا امکان ہے۔ ٹیلر نے ‘نائن’ کے ‘وائیڈ ورلڈ آف اسپورٹس’ پر بات کرتے ہوئے کہا، ‘ایک ٹیسٹ کرکٹ کے عاشق کی حیثیت سے، مجھے یہ منصوبہ پسند نہیں ہے۔ اگر یہ میچ دسمبر کے وسط میں ہوتے ہیں تو یہ یقینی طور پر ٹیسٹ میچوں کی اہمیت کو کم کریں گے۔’
مارک ٹیلر کا موقف اور تنبیہ
سابق کپتان نے مزید کہا کہ کرکٹ آسٹریلیا کو صرف مالی منافع یا تفریح کے بجائے کھیل کے طویل مدتی مفادات پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کرکٹ کو صرف ٹی ٹوئنٹی لیگز میں کھلاڑیوں کی بھاری تنخواہوں کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ ٹیلر کے مطابق:
- کرکٹ بورڈز کو مستقبل کے کھلاڑیوں کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے۔
- صرف فرنچائز کرکٹ ہی کرکٹ کا واحد مقصد نہیں ہونی چاہیے۔
- ٹیسٹ کرکٹ کا وقار برقرار رکھنا آسٹریلوی کرکٹ کی بقا کے لیے ضروری ہے۔
نتیجہ اور مستقبل کا لائحہ عمل
مارک ٹیلر نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ایک ساتھ بیٹھ کر اس بات پر غور کریں گے کہ آسٹریلوی کرکٹ کے لیے اصل میں کیا بہتر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں صرف موجودہ دور کے کھلاڑیوں کی کمائی پر نظر نہیں رکھنی چاہیے، بلکہ اگلی نسل کے کرکٹرز کو بھی تیار کرنا ہوگا جو ٹیسٹ فارمیٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔
فی الحال، کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے اس معاملے پر کوئی حتمی بیان نہیں آیا ہے، لیکن مارک ٹیلر جیسے لیجنڈ کی جانب سے آنے والی یہ تنقید بورڈ کے لیے یقیناً سوچ بچار کا باعث بنے گی۔ کیا کھیل کی تجارتی کاری اور ٹیسٹ کرکٹ کے تحفظ کے درمیان توازن قائم رہ سکے گا؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
