Latest Cricket News

لکھنؤ سپر جائنٹس سے جسٹن لینگر کی چھٹی؟ مائیکل وان کی بڑی پیشگوئی

Sameer Joshi · · 1 min read
Share

لکھنؤ سپر جائنٹس کا مایوس کن سفر اور جسٹن لینگر کا مستقبل

آئی پی ایل 2026 کا سیزن لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم ثابت نہیں ہوا۔ ٹیم کی پے در پے ناکامیوں اور پوائنٹس ٹیبل پر آخری پوزیشن نے فرنچائز کی قیادت اور کوچنگ اسٹاف پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انگلینڈ کے سابق کپتان اور معروف مبصر مائیکل وان نے اب واضح طور پر ہیڈ کوچ جسٹن لینگر کے مستقبل پر شک کا اظہار کیا ہے۔ مائیکل وان کا کہنا ہے کہ اس بات کے قوی آسانات ہیں کہ لکھنؤ کی مینجمنٹ اگلے سیزن کے لیے اپنے کوچنگ اسٹاف میں بڑی تبدیلیاں کرے گی اور شاید جسٹن لینگر کو ان کے عہدے سے فارغ کر دیا جائے گا۔

پنجاب کنگز کے خلاف آخری میچ میں عبرتناک شکست

لکھنؤ سپر جائنٹس کے مایوس کن سیزن کا اختتام ایک اور مایوس کن کارکردگی پر ہوا۔ ہفتہ، 23 مئی کو ایکانا کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پنجاب کنگز (PBKS) نے لکھنؤ سپر جائنٹس کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 7 وکٹوں سے شکست دے دی۔ لکھنؤ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 197 رنز کا ایک بڑا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن مہمان ٹیم پنجاب کنگز نے انتہائی شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ ہدف صرف 18 اوورز میں ہی حاصل کر لیا۔ رشبھ پنت کی قیادت میں کھیلنے والی لکھنؤ کی ٹیم کے لیے یہ شکست سیزن کا ایک اور بڑا دھچکا ثابت ہوئی، اور اب پوائنٹس ٹیبل پر ان کی حتمی پوزیشن کا انحصار ممبئی انڈینز (MI) کے آخری میچ کے نتیجے پر ہے۔

مائیکل وان کا کرک بز پر اہم تجزیہ

مشہور اسپورٹس پلیٹ فارم ‘کرک بز’ (Cricbuzz) پر گفتگو کرتے ہوئے مائیکل وان سے لکھنؤ سپر جائنٹس کے ہیڈ کوچ جسٹن لینگر کے مستقبل کے بارے میں پوچھا گیا۔ مائیکل وان نے کھل کر اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگرچہ لکھنؤ کا اسکواڈ کاغذ پر اتنا مضبوط نہیں تھا کہ وہ آئی پی ایل کا ٹائٹل جیت سکے، لیکن اس کے باوجود پوائنٹس ٹیبل کے نچلے حصے میں مسلسل سیزن ختم کرنا ٹیم کی قیادت اور کوچنگ اسٹاف کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔

وان نے اپنے انٹرویو میں کہا: “اگر آپ جسٹن لینگر اور رشبھ پنت کے گراف کو دیکھیں، تو وہ ساتویں، ساتویں اور اب ممکنہ طور پر دسویں نمبر پر رہے ہیں۔ پیشہ ورانہ کھیلوں میں ایسے نتائج دباؤ کا باعث بنتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اس اسکواڈ کو دیکھ کر یہ نہ سوچیں کہ اسے آئی پی ایل جیتنا چاہیے، لیکن آخری نمبر پر آنا قیادت پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ قیادت اور کوچنگ اسٹاف کو اسی کام کے لیے پیسے دیے جاتے ہیں کہ وہ ٹیم کا کلچر، اخلاقیات اور کارکردگی کو درست سمت میں لائیں۔”

‘باورچی خانے میں پانچ شیف’ – مینجمنٹ کا اندرونی خلفشار

سابق انگلش کپتان نے فرنچائز کے اندرونی ڈھانچے اور تنظیمی پیچیدگیوں پر بھی گہری روشنی ڈالی۔ انہوں نے سمجھایا کہ اگرچہ جسٹن لینگر سخت محنت اور بہترین ٹیم کلچر پر پختہ یقین رکھتے ہیں، لیکن لکھنؤ سپر جائنٹس کی مینجمنٹ میں بہت زیادہ بااثر شخصیات کی موجودگی نے ٹیم کی حکمت عملی اور کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

مائیکل وان نے اس صورتحال کو ایک دلچسپ تشبیہ دیتے ہوئے کہا: “میں جسٹن لینگر کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ وہ سخت محنت اور اچھے ٹیم کلچر پر یقین رکھتے ہیں، لیکن کسی بھی وجہ سے یہ فارمولا یہاں کام نہیں کر سکا۔ آپ کے پاس ٹام موڈی، کین ولیمسن، جسٹن لینگر، رشبھ پنت اور پھر فرنچائز کے مالک موجود ہیں۔ یہ بنیادی طور پر ایک ہی کچن (باورچی خانے) میں پانچ شیف (باورچیوں) کے کام کرنے جیسا ہے، جہاں ہر کوئی اپنی مرضی چلانا چاہتا ہے۔” جب ایک ہی وقت میں اتنے سارے بااثر دماغ فیصلے کر رہے ہوں، تو ٹیم کے لیے ایک واضح سمت کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اینڈی فلاور اور ہوسے مورینیو کی مثالیں

اپنے تجزیے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے مائیکل وان نے ماضی کی کامیاب کوچنگ کارکردگیوں کا موازنہ موجودہ حالات سے کیا۔ انہوں نے سابق ہیڈ کوچ اینڈی فلاور کی مثال دی، جنہوں نے ایک نسبتاً کمزور اسکواڈ کے باوجود لکھنؤ سپر جائنٹس کو پوائنٹس ٹیبل پر تیسری پوزیشن دلائی تھی۔ وان کا کہنا تھا کہ ایک بہترین کوچ وہ ہوتا ہے جو محدود وسائل کا بہترین استعمال کرنا جانتا ہو۔

انہوں نے فٹ بال کے مشہور مینیجر ہوسے مورینیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “کبھی کبھی ہم کھیلوں میں کوچز کا فیصلہ صرف ٹرافیوں کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ لیکن آپ اینڈی فلاور کو دیکھیں جنہوں نے اس وقت کے شاید بہترین اسکواڈ کے بغیر بھی ٹیم کو تیسرے نمبر پر پہنچایا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک اچھا کوچ کتنا اہم ہوتا ہے۔ ہوسے مورینیو نے ایک بار کہا تھا کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی مانچسٹر یونائیٹڈ کو دوسرے نمبر پر لانا تھا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ اسکواڈ اس پوزیشن کے لائق بھی نہیں تھا۔”

رشبھ پنت کی کپتانی اور کارکردگی پر سوالات

آئی پی ایل 2026 کے دوران نہ صرف کوچنگ اسٹاف بلکہ کپتان رشبھ پنت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ فرنچائز نے رشبھ پنت کو ٹیم میں شامل کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی تھی، لیکن وہ بلے کے ساتھ تسلسل برقرار رکھنے میں ناکام رہے اور میدان میں ان کے فیصلے بھی ٹیم کے حق میں بہتر ثابت نہ ہو سکے۔ اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو رشبھ پنت کی قیادت میں لکھنؤ سپر جائنٹس نے گزشتہ دو آئی پی ایل سیزنز کے دوران کھیلے گئے 28 میچوں میں سے صرف 10 میں فتح حاصل کی ہے، جو کہ ایک مایوس کن ریکارڈ ہے۔

لکھنؤ سپر جائنٹس کی حالیہ کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ واضح نظر آتا ہے کہ فرنچائز اگلے سیزن سے قبل کچھ بڑے فیصلے کرنے جا رہی ہے۔ جسٹن لینگر کا ہیڈ کوچ کے طور پر مستقبل اب خطرے میں ہے، اور مائیکل وان کی یہ پیشگوئی سچ ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے کہ لکھنؤ کی ٹیم اب لینگر کے ساتھ مزید سفر جاری رکھنے کے حق میں نہیں ہوگی۔

Avatar photo
Sameer Joshi

Sameer Joshi analyzes franchise performance, team rankings, and historical IPL records.