Hardik Pandya Not Alone! Rohit, SKY, And Bumrah Also Targeted By Mumbai Indians – ممبئی انڈینز کا بحران: صرف ہاردک پانڈیا نہیں، روہت، سوریا اور بمراہ بھی انتظامیہ کی نظروں میں
ممبئی انڈینز کا زوال: کیا ڈریسنگ روم میں ’الفاز‘ کا ٹکراؤ ہے؟
ممبئی انڈینز، جو آئی پی ایل کی تاریخ کی پانچ بار کی فاتح ٹیم رہی ہے، 2026 کے سیزن میں اپنے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ ٹیم نے 14 میچوں میں سے صرف 4 میں کامیابی حاصل کی اور پوائنٹس ٹیبل پر نویں نمبر پر رہی۔ یہ ناکامی جہاں ہاردک پانڈیا کی کپتانی پر سوال اٹھاتی ہے، وہیں ایک تازہ رپورٹ نے کرکٹ حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
کیا سینئر کھلاڑی انتظامیہ کے قابو سے باہر ہیں؟
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، ممبئی انڈینز کی مینجمنٹ صرف ہاردک پانڈیا سے ناخوش نہیں ہے، بلکہ سوریا کمار یادو، روہت شرما اور جسپریت بمراہ جیسے بڑے نام بھی اب انتظامیہ کی ‘بلیک لسٹ’ میں شامل ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں ان کھلاڑیوں کو ’ان کوچ ایبل‘ (ناقابلِ تربیت) قرار دیا گیا ہے۔
کپتانی کا تنازع اور ’الفاز‘ کا ٹکراؤ
ممبئی انڈینز کی ٹیم میں ایسے کھلاڑیوں کی بہتات ہے جو خود بین الاقوامی کرکٹ میں کپتانی کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ماضی میں روہت شرما ان تمام کھلاڑیوں کو ایک ساتھ لے کر چلنے میں کامیاب رہے تھے، تاہم 2024 کے سیزن میں قیادت کی تبدیلی کے بعد صورتحال بدل گئی۔ گجرات ٹائٹنز سے ہاردک پانڈیا کی واپسی اور انہیں کپتان بنانے کے فیصلے نے ڈریسنگ روم کی ڈائنامکس کو بری طرح متاثر کیا۔
اب ٹیم میں ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو اپنی اپنی جگہ لیڈر ہیں، جس کی وجہ سے فیلڈ پر اور ڈریسنگ روم کے اندر تناؤ دیکھا گیا۔ مینجمنٹ کے لیے ان سینئر کھلاڑیوں کے رویے کو کنٹرول کرنا ایک مشکل چیلنج بن چکا ہے۔
اندرونی ذرائع کا تہلکہ خیز انکشاف
دی انڈین ایکسپریس کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، ممبئی انڈینز کے ایک اندرونی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ راجستھان رائلز کے خلاف میچ کے بعد کوچنگ اسٹاف نے کھلاڑیوں کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔ اگرچہ کھلاڑیوں نے آف دی فیلڈ کوچز کے مشوروں کو سنا، لیکن میدان میں انہوں نے ڈیٹا پر مبنی حکمت عملی کو نظر انداز کر دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے: “کوچنگ اسٹاف کا پیغام واضح تھا کہ آپ جہاں بھی کھیلیں، آپ کو کوچ ایبل ہونا چاہیے۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں کوچنگ اسٹاف نے ڈیٹا کی مدد سے پلان دیا لیکن کھلاڑیوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔”
ممبئی انڈینز کی تاریخ اور موجودہ صورتحال
ممبئی انڈینز روایتی طور پر لیگ مرحلے میں غلبہ حاصل کرنے والی ٹیم رہی ہے۔ 2015، 2017، 2019 اور 2021 کے سیزن اس بات کے گواہ ہیں کہ ٹیم نے کس طرح لگاتار فتوحات حاصل کیں۔ تاہم، 2024 کے بعد سے ٹیم کی کارکردگی کا گراف تیزی سے گرا ہے۔ انفرادی سطح پر بھی کھلاڑی فارم کھو چکے ہیں۔ نہ تو کوئی بلے باز اورینج کیپ کی دوڑ میں ہے اور نہ ہی کوئی گیند باز پرپل کیپ کے قریب ہے۔ ٹیم کے بہترین بلے باز ریان ریکلیٹن 17ویں نمبر پر ہیں، جبکہ بہترین اسپنر اللہ غضنفر 14ویں نمبر پر موجود ہیں۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کاغذ پر مضبوط نظر آنے والی یہ ٹیم میدان پر اپنی ساکھ کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ممبئی انڈینز کی انتظامیہ اس زوال کی حقیقی وجوہات تلاش کرے اور سخت فیصلے لے تاکہ ٹیم اپنی پرانی شان دوبارہ حاصل کر سکے۔
