Latest Cricket News

“Not working”: Former MI head coach urged Rishabh Pant to give up leadership rol

Noor Fatima · · 1 min read
Share

رشبھ پنت اور کپتانی کا بوجھ: کیا تبدیلی وقت کی ضرورت ہے؟

آئی پی ایل 2026 کا سیزن لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے لیے انتہائی مایوس کن ثابت ہوا ہے، اور اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ٹیم کی قیادت پر اٹھائے جانے والے سوالات ہیں۔ ٹیم کے کپتان رشبھ پنت، جنہیں بھاری معاوضے پر ٹیم میں شامل کیا گیا تھا، اب ماہرین کی تنقید کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ سابق جنوبی افریقی وکٹ کیپر اور ممبئی انڈینز کے سابق ہیڈ کوچ مارک باؤچر کا ماننا ہے کہ کپتانی کا دباؤ پنت کی بیٹنگ فارم پر بری طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔

مارک باؤچر کا سخت موقف

مارک باؤچر نے ESPNcricinfo کے ایک پروگرام کے دوران واضح الفاظ میں کہا کہ پنت کی قیادت اور ان کی بطور بیٹر کارکردگی میں توازن نہیں ہے۔ باؤچر کا کہنا تھا: “رشبھ پنت کی بطور کرکٹر صلاحیت اور ان کی قیادت ایک ساتھ کام نہیں کر رہی ہیں۔ ہم نے گزشتہ چند سیزنز سے یہ دیکھا ہے۔ وہ توقعات کے مطابق نتائج نہیں دے پا رہے ہیں۔”

باؤچر نے مزید مشورہ دیا کہ اگر کپتانی ان کی قدرتی جارحانہ بیٹنگ کے راستے میں رکاوٹ بن رہی ہے، تو انہیں اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، ہر کھلاڑی کا اپنی تیاری کا ایک الگ طریقہ ہوتا ہے، اور پنت کو اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا۔

اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟

رشبھ پنت نے اس سیزن میں 14 میچ کھیلے جس میں انہوں نے 138 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 312 رنز بنائے۔ اگرچہ یہ پچھلے سیزن کے مقابلے میں کچھ بہتری ہے، لیکن یہ اس معیار کے قریب نہیں ہے جس کے لیے پنت جانے جاتے ہیں۔ لکھنؤ سپر جائنٹس نے پنت کی قیادت میں گزشتہ دو سیزنز میں 28 میچ کھیلے، جن میں سے وہ صرف 10 میں کامیابی حاصل کر سکے۔ ان کی جیت کا تناسب 35.71 فیصد رہا، اور ٹیم اس سیزن میں پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نچلے نمبر پر رہی۔

امباتی رائیڈو کی رائے

صرف مارک باؤچر ہی نہیں، سابق چنئی سپر کنگز کے بیٹر امباتی رائیڈو نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ رائیڈو کا کہنا ہے کہ پنت ایک ایسے کھلاڑی ہیں جو اپنی فطری جبلت (instinct) پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: “ان کے لیے کپتانی کے فیصلے کرنا مشکل ہے کیونکہ ان کا انداز بہت غیر روایتی ہے۔ اگر کپتانی کام نہیں کر رہی ہے، تو بہترین حل یہ ہے کہ وہ صرف ایک کھلاڑی کی حیثیت سے کھیلیں اور اپنے کھیل سے لطف اندوز ہوں۔”

مستقبل کے لیے کیا راستہ ہے؟

لکھنؤ سپر جائنٹس نے رشبھ پنت کو 27 کروڑ کی بھاری قیمت پر خریدا تھا، جس کا مقصد صرف کپتانی نہیں بلکہ ان کی بیٹنگ سے ٹیم کو مضبوط کرنا تھا۔ اب جبکہ ٹیم کی کارکردگی مسلسل گراوٹ کا شکار ہے، انتظامیہ اور خود پنت کے لیے یہ فیصلہ کن وقت ہے۔ کیا رشبھ پنت کپتانی کا بوجھ اتار کر دوبارہ وہی جارحانہ بلے باز بن سکیں گے جس کے لیے پوری دنیا انہیں جانتی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں ہی ملے گا۔

کرکٹ کے حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا کسی کھلاڑی کو صرف اس کی فارم بچانے کے لیے قیادت سے ہٹایا جانا چاہیے یا نہیں۔ تاہم، پنت کے کیس میں، ماہرین کا متفقہ خیال یہی ہے کہ اب تبدیلی کا وقت آ چکا ہے۔

Avatar photo
Noor Fatima

Noor Fatima covers detailed player profiles, career milestones, and cricket biographies.