Cricket News

Rishabh Pant Warned Against Following MS Dhoni With LSG Captaincy At Stake

Sameer Joshi · · 1 min read
Share

لکھنؤ سپر جائنٹس کی ناکامی اور رشبھ پنت کا مستقبل

آئی پی ایل 2026 کا سیزن لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے۔ پنجاب کنگز کے ہاتھوں ایک اور شکست کے بعد ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نچلے مقام پر آ گئی ہے۔ اس سیزن میں 14 میچوں میں سے صرف چار میں کامیابی حاصل کرنے والی ٹیم کے کپتان رشبھ پنت اب شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

کپتانی کا بوجھ اور کارکردگی میں گراوٹ

گزشتہ دو سیزن کے دوران رشبھ پنت کی قیادت میں لکھنؤ کی ٹیم نے 28 میچ کھیلے ہیں جن میں سے 18 میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیم کا پلے آف تک رسائی حاصل نہ کر پانا انتظامیہ کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ صرف یہی نہیں، پنت کی اپنی بیٹنگ فارم بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس سیزن میں انہوں نے 28.36 کی اوسط سے صرف 312 رنز بنائے، جو ان کے معیار کے مطابق بہت کم ہے۔

امباتی رائیڈو کا مشورہ

سابق بھارتی بلے باز امباتی رائیڈو نے رشبھ پنت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کپتانی سے دستبردار ہو کر اپنی بیٹنگ پر توجہ مرکوز کریں۔ رائیڈو کا ماننا ہے کہ پنت کی کپتانی کا انداز ایم ایس دھونی سے مماثلت رکھتا ہے، لیکن یہ طریقہ ہر کھلاڑی کے لیے کارگر نہیں ہوتا۔

رائیڈو نے کہا: “ان کا آئیڈیل ہمیشہ ایم ایس دھونی رہے ہیں، لیکن ان کا فطری انداز (instinctive) کبھی کبھی ٹیم کی حکمت عملی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پنت کو اب ایک کھلاڑی کے طور پر کھیلنا چاہیے تاکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی فارم واپس پا سکیں۔”

ایم ایس دھونی کا ماڈل کیوں پنت کے لیے کام نہ کر سکا؟

ایم ایس دھونی اپنی پرسکون اور جبلت پر مبنی کپتانی کے لیے مشہور ہیں، جس کی بدولت سی ایس کے نے کئی ٹائٹل جیتے۔ تاہم، تاریخ گواہ ہے کہ 2017 میں رائزنگ پونے سپر جائنٹس کے دوران خود دھونی کا یہ انداز مشکلات کا شکار رہا تھا، جس کے بعد انہیں کپتانی سے ہٹا دیا گیا تھا۔ پنت کا اسی ماڈل کو اپنانے کی کوشش کرنا ان کی ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو رہا۔

تنقید کی وجوہات

ماہرین کرکٹ پنت کی کپتانی میں فیلڈ پلیسمنٹ، ڈیتھ اوورز میں بولنگ کی ناقص منصوبہ بندی اور ریویو فیصلوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، آئی پی ایل کی تاریخ کے مہنگے ترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہونے کا دباؤ بھی ان کی ذہنی کیفیت اور کارکردگی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ لکھنؤ سپر جائنٹس نے انہیں 27 کروڑ روپے میں خریدا تھا، جس کے بعد ان سے توقعات بہت زیادہ تھیں۔

مستقبل کا لائحہ عمل

لکھنؤ سپر جائنٹس کے ڈائریکٹر آف کرکٹ ٹام موڈی نے واضح کیا ہے کہ فرنچائز اگلے سیزن سے قبل قیادت کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ یہ بات واضح ہے کہ رشبھ پنت ایک باصلاحیت کھلاڑی ہیں، لیکن کپتانی کا دباؤ ان کے قدرتی کھیل کو متاثر کر رہا ہے۔ اگر وہ کپتانی چھوڑ کر صرف وکٹ کیپنگ اور بلے بازی پر توجہ دیں تو وہ دوبارہ اپنی جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ، رشبھ پنت کو اس وقت اپنی ترجیحات طے کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا وہ قیادت کے بوجھ تلے دبے رہنا پسند کریں گے یا پھر ایک آزاد کھلاڑی کی حیثیت سے دوبارہ میدان میں اتر کر اپنی شناخت کو بحال کریں گے؟ یہ فیصلہ آنے والے کچھ مہینوں میں سامنے آ جائے گا۔

Avatar photo
Sameer Joshi

Sameer Joshi analyzes franchise performance, team rankings, and historical IPL records.