Sachin Tendulkar came close to playing in the BBL! Official video reveals shocki – کیا سچن ٹنڈولکر بگ بیش لیگ کھیلنے والے تھے؟ حیران کن انکشاف
سچن ٹنڈولکر اور آسٹریلوی لیگ: ایک ان سنی کہانی
کرکٹ کی تاریخ میں سچن ٹنڈولکر کا نام سنہری حروف میں لکھا گیا ہے۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی مقبولیت میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی۔ لیکن حال ہی میں میلبرن اسٹارز کے سابق صدر ایڈی میک گائر نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے کرکٹ کے حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ میک گائر کے مطابق، ایک وقت ایسا تھا جب وہ سچن ٹنڈولکر کو ریٹائرمنٹ سے باہر نکال کر آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں کھیلنے کے لیے قائل کرنا چاہتے تھے۔
منصوبہ کیا تھا؟
ایڈی میک گائر نے ‘ود دی اسٹارز’ (With the Stars) پوڈکاسٹ کے ایک ایپی سوڈ میں اس دلچسپ منصوبے کا ذکر کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر وہ سچن ٹنڈولکر کو صرف ایک میچ کے لیے اپنی ٹیم میں شامل کر لیں، تو اس سے نہ صرف اسٹیڈیم کھچا کھچ بھر جائے گا بلکہ یہ آسٹریلوی کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا میچ ثابت ہوگا۔
میک گائر نے کہا، ‘میں نے سوچا کہ اگر آپ میری ٹیم کے بہترین بلے بازوں اور گیند بازوں کو قومی ڈیوٹی کے لیے لے جا رہے ہیں، تو بدلے میں مجھے ایک بین الاقوامی کھلاڑی لانے کی اجازت دی جائے۔ میں نے تجویز دی تھی کہ اگر میں سچن ٹنڈولکر کو لے آؤں تو میں پورا اسٹیڈیم پانچ گنا زیادہ بھر سکتا ہوں۔’
شین وارن اور سچن کا جادو
اس منصوبے میں صرف سچن ہی نہیں، بلکہ آنجہانی عظیم لیگ اسپنر شین وارن بھی شامل تھے۔ میک گائر کا خواب تھا کہ سچن ٹنڈولکر بطور بلے باز اور شین وارن بطور گیند باز ایک ہی ٹیم میں ایک ساتھ میدان میں اتریں۔ یہ جوڑی یقیناً کسی بھی میچ کو تاریخی بنانے کے لیے کافی تھی۔
منصوبہ حقیقت کیوں نہ بن سکا؟
اگرچہ یہ خیال سننے میں بہت پرکشش تھا، لیکن یہ کبھی عملی جامہ نہ پہن سکا۔ سچن ٹنڈولکر، جنہوں نے نومبر 2013 میں بین الاقوامی کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کی تھی، اپنے فیصلے پر اٹل رہے۔ انہوں نے کبھی بھی دوبارہ مسابقتی لیگز میں واپسی کے لیے اپنی ریٹائرمنٹ واپس نہیں لی۔
سچن اور آسٹریلیا کا رشتہ
اگرچہ سچن نے کبھی بگ بیش لیگ میں حصہ نہیں لیا، لیکن آسٹریلیا کے میدانوں سے ان کا تعلق ہمیشہ خاص رہا ہے۔ 2015 میں ‘کرکٹ آل اسٹارز’ سیریز کے دوران شین وارن اور سچن ٹنڈولکر ایک ساتھ کھیلے تھے۔ اس کے علاوہ، 2020 میں ‘بش فائر کرکٹ بیش’ کے دوران، سچن ٹنڈولکر کو پہلی بار آسٹریلوی ٹیم کی نمائندگی کرتے اور پیلی جرسی میں دیکھا گیا، جس کا مقصد آسٹریلیا میں لگی آگ کے متاثرین کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا تھا۔
نتیجہ
ایڈی میک گائر کا یہ انکشاف ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر واقعی سچن ٹنڈولکر کسی بگ بیش میچ میں حصہ لیتے تو ماحول کیسا ہوتا۔ یہ کرکٹ کی تاریخ کا ایک ‘اگر’ رہ گیا ہے، لیکن یہ بات ثابت کرتا ہے کہ ماسٹر بلاسٹر کا اثر و رسوخ آج بھی کتنا گہرا ہے۔ کرکٹ شائقین کے لیے یہ جاننا ہی کافی دلچسپ ہے کہ ایک وقت میں آسٹریلیا کی سب سے بڑی لیگ کی کمان سنبھالنے والے لوگ سچن کو اپنے رنگ میں رنگنے کے لیے کس حد تک جانے کو تیار تھے۔
