News

‘Disappointing’ – Sangakkara on Sam Curran turning out for Surrey with IPL still – سم کران کی آئی پی ایل سے دوری اور کمارا سنگاکارا کا مایوس کن بیان

Yash Verma · · 1 min read
Share

آئی پی ایل 2026: سم کران کا تنازع اور ٹیم انتظامیہ کی ناراضگی

آئی پی ایل 2026 کے دوران راجستھان رائلز (RR) کے لیے اس وقت صورتحال کافی پیچیدہ ہو گئی جب سم کران انجری کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے۔ تاہم، ہیڈ کوچ کمارا سنگاکارا نے اس معاملے پر اپنی گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے کیونکہ سم کران نے آئی پی ایل سے باہر رہنے کے کچھ ہی عرصے بعد انگلینڈ میں سرے (Surrey) کی جانب سے ‘وائٹیلیٹی بلاسٹ’ میں حصہ لیا۔

سنگاکارا کا موقف: ‘یہ مایوس کن ہے’

کمارا سنگاکارا نے کوالیفائر 2 کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ سم کران کو ‘سیزن ختم کرنے والی’ (season-ending) انجری کا سامنا ہے۔ سنگاکارا نے کہا کہ یہ بات ان کے لیے انتہائی حیران کن اور مایوس کن تھی کہ جس کھلاڑی کو سیزن سے باہر سمجھا جا رہا تھا، وہ اچانک سرے کے لیے دو سے تین میچز کھیلتا ہوا نظر آیا۔ سنگاکارا کا ماننا ہے کہ اگر انجری اتنی شدید نہیں تھی، تو کھلاڑی کو اپنی ٹیم کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔

سم کران کا دفاع اور پس منظر

سم کران، جنہوں نے آئی پی ایل سے دستبرداری کا اعلان 19 مارچ کو کیا تھا، کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت واپسی کریں گے جب انہیں محسوس ہوگا۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ وہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران سے ہی گروئن (groin) کی انجری سے نبردآزما تھے اور اسکین رپورٹس میں کافی نقصان ظاہر ہوا تھا، جس کی وجہ سے انہیں یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سرے کے لیے تین میچوں میں اب تک سم کران اپنی ٹیم کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بن چکے ہیں، حالانکہ انہوں نے ان میچوں میں بولنگ نہیں کی۔

متبادل کھلاڑیوں کے مسائل

سم کران کے باہر ہونے پر راجستھان رائلز نے داسن شناکا کو ٹیم میں شامل کیا تھا۔ اس فیصلے نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا کیونکہ شناکا کو پاکستان سپر لیگ (PSL) میں لاہور قلندرز کے ساتھ اپنے معاہدے کو توڑنا پڑا، جس کے نتیجے میں انہیں پی ایس ایل سے ایک سال کے لیے پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ صورتحال آئی پی ایل کی فرنچائزز کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ آخری لمحات میں کھلاڑیوں کی تبدیلی کتنی مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔

بی سی سی آئی کی سخت پالیسی کی حمایت

سنگاکارا نے بی سی سی آئی (BCCI) کی جانب سے کھلاڑیوں کے لیے بنائی گئی سخت پالیسیوں کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کھلاڑی انجری کا شکار ہوتا ہے تو اس کے لیے ایک شفاف عمل کا ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاہدے کی پاسداری ہر صورت ہونی چاہیے کیونکہ دیگر کھلاڑی جیسے ایڈم ملن، شمرون ہیٹمائر، اور دیگر نے مشکل حالات کے باوجود اپنی ٹیم کا ساتھ دیا، پریکٹس کی اور ٹیم کی ضروریات پوری کیں۔

نتیجہ

سنگاکارا کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فرنچائز کرکٹ میں کھلاڑیوں کی وابستگی اور ان کی فٹنس کے معاملات کس قدر حساس نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ اگرچہ سم کران کا مؤقف اپنی جگہ موجود ہے، لیکن کوچ کا یہ نقطہ نظر کہ کھلاڑی کو مشکل وقت میں اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، کرکٹ کی دنیا میں ایک نئی بحث کو جنم دیتا ہے۔ یہ معاملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پیشہ ورانہ کرکٹ میں معاہدوں کی پاسداری اور شفافیت ہی لیگ کی ساکھ کو برقرار رکھنے کا واحد راستہ ہے۔

Avatar photo
Yash Verma

Yash Verma tracks IPL schedules, fixture announcements, and venue-related updates.