Sanjay Manjrekar’s praise for GT owners comes with direct swipe at Ambanis & MI – سنجے مانجریکر کی گجرات ٹائٹنز کی تعریف: امبانیز پر بالواسطہ تنقید اور ٹیم کی کامیابی کا راز
سابق بھارتی بلے باز اور معروف کمنٹیٹر سنجے مانجریکر نے حال ہی میں گجرات ٹائٹنز (GT) کے مالکان کی کھلے دل سے تعریف کی ہے، جس کی بنیادی وجہ ان کا ٹیم کے کرکٹ سے متعلق معاملات میں غیر ضروری مداخلت نہ کرنا ہے۔ مانجریکر کا یہ تبصرہ کرکٹ کے ماہرین اور شائقین کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ انہوں نے ممبئی انڈینز (MI) کے مالکان پر ایک بالواسطہ لیکن واضح طنز بھی کیا ہے۔ گجرات ٹائٹنز کی آئی پی ایل میں مسلسل کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے، مانجریکر کے خیالات ایک گہری بصیرت فراہم کرتے ہیں کہ ایک کامیاب فرنچائز کو کیسے چلایا جائے۔
گجرات ٹائٹنز کی غیر معمولی کامیابی کا سفر
2022 میں اپنے قیام کے بعد سے، گجرات ٹائٹنز نے انڈین پریمیئر لیگ میں ایک غیر معمولی اور حیران کن سفر طے کیا ہے۔ اپنی پہلی ہی شرکت میں ٹورنامنٹ جیت کر، انہوں نے سب کو حیران کر دیا۔ اس کامیابی کا تسلسل برقرار رہا اور اب تک وہ اپنے پانچ سیزن میں سے چار میں پلے آف تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ یہ ایک ایسی کارکردگی ہے جو نئی فرنچائزز کے لیے ایک مثال قائم کرتی ہے۔ پچھلے سال، فرنچائز کی ملکیت میں تبدیلی آئی جب ٹورنٹ گروپ نے سابقہ مالکان، سی وی سی کیپیٹل، سے اکثریت حصص خرید لیے۔ تاہم، اس تبدیلی کا ٹیم کی آن فیلڈ کارکردگی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا، جو کہ فرنچائز کی مضبوط بنیاد اور انتظامی ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے۔
آئی پی ایل 2026 میں گجرات کی شاندار کارکردگی
آئی پی ایل 2026 میں، گجرات ٹائٹنز نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ سیزن کے پہلے ہاف میں، ٹیم کی کارکردگی میں کچھ اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ ابتدائی سات میچوں میں، انہوں نے دو ہارنے والے سلسلوں کے درمیان تین میچوں کی جیت کا سلسلہ دیکھا۔ یہ ابتدائی عدم استحکام ٹیم کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا تھا، لیکن گجرات ٹائٹنز نے اپنی حکمت عملی اور عزم کے ساتھ اس پر قابو پا لیا۔ سیزن کے دوسرے ہاف میں، ٹیم نے اپنی کارکردگی کو یکسر تبدیل کر دیا۔ انہوں نے اپنے پچھلے تمام عدم استحکام کو بھلا کر پانچ میچوں کی شاندار جیتنے کی لکیر قائم کی، جو ان کی صلاحیت اور مضبوط ٹیم ورک کا ثبوت ہے۔ حالانکہ انہیں ایک میچ میں شکست ہوئی، لیکن ٹیم نے لیگ مرحلے کا اپنا آخری میچ بھی جیتا اور پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر فائز ہونے کی تصدیق کی، جو پچھلے سال سے ایک درجہ بہتر تھا۔ یہ کارکردگی ایک مضبوط، ہم آہنگ اور باصلاحیت ٹیم کی نشاندہی کرتی ہے جو دباؤ میں بھی بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کامیابی کے اہم ستون
گجرات ٹائٹنز کی مستقل مزاجی کا بڑا سہرا کپتان شبمن گل اور بائیں ہاتھ کے بلے باز سائی سدرشن کی اوپننگ جوڑی کو جاتا ہے۔ ان دونوں نے ٹیم کے لیے زیادہ تر رنز بنائے ہیں، اور نمبر 3 پر آنے والے جوس بٹلر نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ ان کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ نے کئی میچوں میں ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا ہے۔
- بلے بازی کی طاقت: شبمن گل اور سائی سدرشن کی مضبوط اوپننگ شراکت، جو ٹیم کو مستحکم آغاز فراہم کرتی ہے۔
- مڈل آرڈر کی مضبوطی: جوس بٹلر کا نمبر 3 پر آنا، جو رنز کے بہاؤ کو جاری رکھتے ہیں۔
- پیس بیٹری: اگرچہ گجرات ٹائٹنز کو اکثر “سست اور روایتی” کرکٹ کھیلنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن یہ طریقہ کارآمد ثابت ہوا ہے۔ کاگیسو رباڈا اور جیسن ہولڈر کی قیادت میں ان کے پیس اٹیک نے بھی ٹیم کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کی تیز گیند بازی نے مخالف ٹیموں کو دباؤ میں رکھا ہے۔
- اسپن جادو: اسپنر راشد خان، جو پچھلے سال اپنی فارم کھوتے ہوئے نظر آئے تھے، نے اس سیزن میں اپنی جادوئی اسپن گیند بازی سے ایک بار پھر سب کو متاثر کیا ہے۔ ان کی واپسی ٹیم کے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ ثابت ہوئی ہے۔
سنجے مانجریکر کا اعتراف
سنجے مانجریکر نے اسپورٹ اسٹار سے بات کرتے ہوئے گجرات ٹائٹنز کی کامیابی کے پیچھے کی وجوہات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے خاص طور پر ٹیم کے مالکان کی تعریف کی کہ وہ عوام کی نظروں سے دور رہتے ہیں اور ڈائریکٹر آف کرکٹ وکرم سولنکی کو معاملات چلانے کی پوری آزادی دیتے ہیں۔ مانجریکر نے ٹیم کے ہیڈ کوچ آشیش نہرا کی بھی تعریف کی کہ انہوں نے آن فیلڈ مستقل مزاجی کو برقرار رکھا۔
مانجریکر نے کہا، “یہ واقعی ایک قابل ذکر کہانی ہے کیونکہ یہ ایک نئی فرنچائز ہے، اور یہ ایسی فرنچائز نہیں ہے جہاں آپ مالکان کو صوفوں پر بیٹھے دیکھتے ہیں۔ وہ اس طرح آپ کے چہرے پر نظر نہیں آتے۔ کوئی بھی مالکان کو نہیں جانتا۔ آپریشنز کو سنبھالنے والا شخص ایک سابق انگلش کرکٹر (وکرم سولنکی) ہے، جس کا کارپوریٹ پس منظر ہے۔ تو، یہ ایک بہت ہی دلچسپ فرنچائز ہے، اور ان کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ کہیں نہ کہیں، آشیش نہرا، جو مستقل رہے ہیں، کو اس پر بہت فخر ہونا چاہیے۔”
امبانیز پر بالواسطہ طنز؟
مانجریکر کا مالکان کے “صوفے پر بیٹھے” ہونے کا تبصرہ زیادہ تر ممبئی انڈینز کے مالکان، نیتا اور آکاش امبانی پر ایک بالواسطہ طنز سمجھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر اس سال، امبانی کو اپنی ٹیم کے ہر میچ میں باؤنڈری رسیوں کے قریب ایک مخصوص صوفے پر بیٹھے دیکھا گیا ہے۔ اس سے قبل، بی سی سی آئی نے میچ کے دوران ٹیم کے مالکان کے کھلاڑیوں کے ساتھ بات چیت کے بارے میں قواعد و ضوابط نافذ کیے تھے۔ مانجریکر کا تبصرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کا ماننا ہے کہ فرنچائز کے مالکان کو کرکٹ کے معاملات میں بہت زیادہ مداخلت سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ٹیم کی پیشہ ورانہ کارکردگی متاثر نہ ہو۔
آگے کیا؟ پلے آف کا مرحلہ
پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر آنے کے بعد، گجرات ٹائٹنز اب منگل کو دھرم شالہ میں کوالیفائر 1 کھیلنے کے لیے تیار ہے۔ اس اہم میچ میں، گجرات ٹائٹنز کا مقابلہ ٹیبل ٹاپرز رائل چیلنجرز بنگلور سے ہوگا۔ اس میچ کا فاتح 31 مئی کو احمد آباد میں ہونے والے آئی پی ایل فائنل میں براہ راست داخلہ حاصل کرے گا، جبکہ ہارنے والی ٹیم کو فائنل میں جگہ بنانے کا دوسرا موقع ملے گا جب وہ 27 مئی کو ملانپور میں دوسرا کوالیفائر کھیلے گی۔ یہ میچ گجرات ٹائٹنز کے لیے ایک اور بڑا امتحان ہوگا، لیکن ان کی موجودہ فارم اور ٹیم کے عزم کو دیکھتے ہوئے، وہ یقینی طور پر فائنل میں پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
گجرات ٹائٹنز نے دکھایا ہے کہ کرکٹ کی دنیا میں کامیابی صرف بڑے ناموں یا مالکان کے براہ راست ملوث ہونے سے نہیں ملتی، بلکہ ایک مضبوط انتظامی ڈھانچہ، باصلاحیت کوچنگ اسٹاف، اور کھلاڑیوں کی مکمل آزادی سے بھی حاصل ہوتی ہے۔ سنجے مانجریکر کا یہ تبصرہ اس فلسفے کی تصدیق کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ کس طرح ایک نئی فرنچائز روایتی طاقتوں کو چیلنج کر سکتی ہے۔
