News

بنگلہ دیش کی تاریخی جیت: نجم الحسن شانتو نے بولنگ یونٹ میں ‘صحت مند مسابقت’ کو کامیابی کا راز قرار دیا

Sameer Joshi · · 1 min read
Share

بنگلہ دیش کی شاندار فتح: ٹیم ورک اور صحت مند مسابقت کا نتیجہ

بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے کپتان نجم الحسن شانتو نے پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 0-2 کی تاریخی کامیابی کو اپنی ٹیم کے بولنگ یونٹ کے درمیان موجود ‘صحت مند مسابقت’ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ راولپنڈی میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں بنگلہ دیش نے 78 رنز سے کامیابی حاصل کی، جس میں بائیں ہاتھ کے اسپنر تیج الاسلام کی شاندار بولنگ نے کلیدی کردار ادا کیا۔

بولنگ یونٹ کا بہترین مظاہرہ

پوری سیریز کے دوران بنگلہ دیشی اسپنرز نے مجموعی طور پر 22 وکٹیں حاصل کیں، جن میں تیج الاسلام اور مہدی حسن میراز کی جانب سے پانچ وکٹوں کے ہالز شامل تھے۔ دوسری جانب فاسٹ بولرز نے بھی بھرپور ساتھ دیا اور کل 18 وکٹیں اپنے نام کیں، جن میں ناہید رانا کی 11 وکٹیں نمایاں ہیں۔ شانتو کا ماننا ہے کہ جس بھی کھلاڑی کو ذمہ داری دی گئی، اس نے توقعات سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی۔

دباؤ میں پختگی کا مظاہرہ

پانچویں دن کی صبح جب محمد رضوان اور ساجد خان کریز پر موجود تھے، بنگلہ دیشی ٹیم دباؤ کا شکار تھی۔ تاہم، شانتو نے اعتراف کیا کہ ٹیم نے ماضی کی نسبت اس بار جذبات پر قابو پانا سیکھ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی بنگلہ دیشی ٹیم ٹاپ ٹیموں کی طرح مکمل پرسکون نہیں، لیکن ان کی پیش رفت قابلِ تعریف ہے۔ اس نازک موڑ پر مشفق الرحیم، لٹن داس، مہدی حسن میراز اور مومن الحق جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کا مشورہ کپتان کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہوا۔

لٹن داس کی میچ وننگ اننگز

کپتان شانتو نے لٹن داس کی پہلی اننگز کی سنچری کو ٹیم کے لیے ایک ‘نصابی مثال’ قرار دیا۔ جب ٹیم 116 رنز پر 6 وکٹیں گنوا چکی تھی، تب لٹن نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے تیج الاسلام کے ساتھ مل کر ٹیم کو مشکل سے نکالا۔ شانتو کے مطابق، لٹن کا پیغام اور ٹیم کے لیے ان کی قربانی ہی تھی جس کی وجہ سے بنگلہ دیش میچ میں واپس آ سکا۔

مستقبل کے لیے بلیو پرنٹ

شانتو نے ٹیم کے ورک ایتھکس (کام کرنے کے اخلاق) کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہر کھلاڑی، چاہے وہ پلیئنگ الیون میں تھا یا نہیں، جیت کے لیے پرعزم تھا۔ یہ سیریز بنگلہ دیش کے لیے مستقبل میں ٹیسٹ میچز جیتنے کا ایک بلیو پرنٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جیسی کوالٹی ٹیم کو اتنے ڈومینیٹنگ انداز میں شکست دینا ہر کھلاڑی کی محنت کا نتیجہ ہے۔

کھیل کا میدان اور جارحانہ انداز

سیریز کے دوران بنگلہ دیشی فیلڈرز کا جارحانہ رویہ بھی موضوع بحث رہا۔ شانتو نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ کے پاس ایک معیاری بولنگ اٹیک ہو، تو آپ کو حریف ٹیم کے سامنے آواز اٹھانے کا اعتماد ملتا ہے۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ کی خوبصورتی ہے کہ کھلاڑی میدان میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور جب آپ بولنگ کے ذریعے جواب دیتے ہیں تو یہ ٹیم کے حوصلے کو مزید بڑھاتا ہے۔

آخر میں، نجم الحسن شانتو کا عزم ہے کہ وہ اپنی ٹیم کی ان غلطیوں کو درست کریں گے جو اس سیریز کے دوران سامنے آئیں، تاکہ مستقبل میں بنگلہ دیش مزید فتوحات سمیٹ سکے۔

Avatar photo
Sameer Joshi

Sameer Joshi analyzes franchise performance, team rankings, and historical IPL records.