ویبھو سوریاونشی: ایم ایس دھونی کے سلیکٹر نے 15 سالہ نوجوان کو سچن ٹینڈولکر قرار دے دیا
بھارتی کرکٹ کا نیا سنسنی خیز ستارہ: ویبھو سوریاونشی
بھارتی کرکٹ کی تاریخ ہمیشہ سے ہی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل نوجوان کھلاڑیوں کو سامنے لانے کے لیے مشہور رہی ہے۔ سچن ٹینڈولکر سے لے کر ویرات کوہلی اور اب یشسوی جیسوال تک، ہندوستان نے دنیا کو عظیم بلے باز دیے ہیں۔ اب اس فہرست میں ایک اور نیا اور حیرت انگیز نام شامل ہو رہا ہے، اور وہ نام ہے ویبھو سوریاونشی (Vaibhav Sooryavanshi) کا۔ صرف 15 سال کی عمر میں، بہار سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان اوپنر نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے سیزن میں راجستھان رائلز کی جانب سے کھیلتے ہوئے بلے بازی کے ایسے جوہر دکھائے ہیں کہ کرکٹ کی دنیا دنگ رہ گئی ہے۔
ویبھو سوریاونشی کی اس غیر معمولی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے، بھارت کے سابق وکٹ کیپر اور سابق چیف سلیکٹر کرن مور نے ان کا موازنہ کرکٹ کے بھگوان کہے جانے والے لیجنڈری سچن ٹینڈولکر سے کر دیا ہے۔ کرن مور کوئی عام شخصیت نہیں ہیں؛ یہ وہی سلیکٹر ہیں جنہوں نے 2004 میں پہلی بار مہندر سنگھ دھونی (MS Dhoni) کو بھارتی ون ڈے ٹیم کے لیے منتخب کیا تھا، جس نے بعد میں بھارتی کرکٹ کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔
آئی پی ایل 2026 میں ویبھو سوریاونشی کی تباہ کن بلے بازی
آئی پی ایل 2026 کا سیزن ویبھو سوریاونشی کے لیے خواب جیسا ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے پچھلے سیزن کے مقابلے میں اس بار دگنے سے بھی زیادہ رنز بنائے ہیں۔ راجستھان رائلز کی طرف سے اوپننگ کرتے ہوئے، اس 15 سالہ کھلاڑی نے محض 13 میچوں میں 579 رنز بنا ڈالے ہیں۔ سب سے حیرت انگیز بات ان کا اسٹرائیک ریٹ ہے، جو کہ 236.32 کا رہا ہے۔ اس ناقابل یقین اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ انہوں نے رواں سیزن میں ایک سنچری اور تین نصف سنچریاں اسکور کی ہیں، جس میں ان کا بہترین انفرادی اسکور 103 رنز رہا ہے۔
ویبھو سوریاونشی آئی پی ایل کی تاریخ میں ایک سے زیادہ سنچریاں بنانے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے ہیں۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اس سیزن میں اب تک 53 چھکے لگائے ہیں۔ یہ کسی بھی بھارتی بلے باز کی جانب سے ایک ہی آئی پی ایل سیزن میں لگائے گئے سب سے زیادہ چھکے ہیں۔ وہ اب ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بلے باز کرس گیل کے ایک سیزن میں 59 چھکوں کے عالمی ریکارڈ کو توڑنے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔
کرن مور نے ویبھو میں ‘سچن ٹینڈولکر’ کا عکس دیکھ لیا
کرن مور نے، جنہوں نے بھارت کے لیے 49 ٹیسٹ اور 94 ون ڈے میچ کھیلے اور بالترتیب 1285 اور 563 رنز بنائے، 1984 سے 1993 تک طویل بین الاقوامی کیریئر گزارا۔ اس کے بعد انہوں نے سلیکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور 2003 سے 2006 تک بی سی سی آئی (BCCI) کے چیف سلیکٹر رہے، جہاں انہوں نے ایم ایس دھونی جیسے عظیم کپتان کو تلاش کیا۔
کرن مور نے ویبھو سوریاونشی کی کارکردگی کا موازنہ 16 سالہ سچن ٹینڈولکر سے کیا ہے۔ مور اس وقت بھارتی ٹیم کا حصہ تھے جب سچن ٹینڈولکر نے 1989 میں پاکستان کے خلاف اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔
کرن مور نے خبر رساں ادارے اے این آئی (ANI) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “جب میں نے پہلی بار سچن ٹینڈولکر کو دیکھا تھا، جو پہلی بار بھارتی ٹیم میں آئے تھے اور انہوں نے دنیا کے بہترین باؤلرز کا سامنا کیا تھا، تو مجھے فوراً ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ ایک خاص کھلاڑی ہیں۔ بالکل یہی معاملہ ویبھو سوریاونشی کے ساتھ ہے؛ وہ ایک خاص صلاحیت کے مالک ہیں۔ یہ ہمارے لیے بہت خوش آئند بات ہے کہ ہمیں ایسا کھلاڑی ملا ہے۔ وہ ملک کا نام روشن کرنے جا رہے ہیں۔ انہیں اسی طرح کھیلنے دیں جیسے وہ کھیل رہے ہیں۔ انہیں خدا نے اس کھیل کے لیے ہی بنایا اور تیار کیا ہے۔”
سچن ٹینڈولکر کا تاریخی ڈیبیو اور وہ جذبہ
سچن ٹینڈولکر نے اپنے پہلے ٹیسٹ دورے میں پاکستان کے خلاف چار ٹیسٹ میچ کھیلے تھے اور دو نصف سنچریوں کی مدد سے 214 رنز بنائے تھے۔ اس سیریز کا ایک واقعہ آج بھی کرکٹ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے، جب وقار یونس کا ایک تیز باؤنسر سچن کی ناک پر لگا اور وہ خون آلود ہو گئے، لیکن انہوں نے میدان چھوڑنے سے انکار کر دیا اور تاریخی الفاظ کہے، “میں کھیلے گا”۔ کرن مور کا ویبھو کا موازنہ سچن سے کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ویبھو میں بھی وہی جنون اور صلاحیت دیکھ رہے ہیں۔
انڈیا اے میں شمولیت اور ڈومیسٹک کرکٹ کے شاندار ریکارڈز
ویبھو سوریاونشی کی اس شاندار اور تسلسل کے ساتھ کی جانے والی کارکردگی کا صلہ انہوں نے جلد ہی پا لیا جب انہیں سری لنکا میں ہونے والی سہ ملکی سیریز کے لیے انڈیا اے (India A) کی ٹیم میں شامل کیا گیا۔ بھارتی ٹیم کے چیف سلیکٹر اجیت آگرکر نے بھی ویبھو کی صلاحیتوں کی کھل کر تعریف کی، اگرچہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یشسوی جیسوال فی الحال سینیئر پوزیشن پر برقرار ہیں۔
اگر ویبھو سوریاونشی کے مجموعی ڈومیسٹک اور جونیئر ریکارڈز پر نظر ڈالی جائے تو وہ انتہائی متاثر کن ہیں:
- لسٹ اے کرکٹ (List-A): ویبھو نے 8 اننگز میں 44.12 کی اوسط اور 164.95 کے شاندار اسٹرائیک ریٹ سے 333 رنز بنائے ہیں، جس میں ایک سنچری اور ایک نصف سنچری شامل ہے۔
- انڈر 19 ون ڈے (U19 ODIs): وہ انڈر 19 فارمیٹ میں بھارت کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے 25 اننگز میں 56.48 کی شاندار اوسط اور 165 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ مجموعی طور پر 1412 رنز بنائے ہیں۔ اس فارمیٹ میں انہوں نے 4 سنچریاں اور 7 نصف سنچریاں اسکور کی ہیں۔
مستقبل کی امیدیں اور بھارتی کرکٹ کا روشن کل
صرف 15 سال کی عمر میں اتنی پختگی اور اتنے بڑے اسٹیج پر دباؤ کا مقابلہ کرنا ویبھو سوریاونشی کو اپنے ہم عصر کھلاڑیوں سے ممتاز کرتا ہے۔ ان کے پاس نہ صرف تکنیک ہے بلکہ وہ جدید کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق جارحانہ انداز میں کھیلنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ راجستھان رائلز کے لیے ان کا یہ سیزن ان کے شاندار مستقبل کا محض ایک آغاز دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ اسی محنت اور عزم کے ساتھ کھیلتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب وہ بھارتی سینیئر ٹیم کی جانب سے بھی سچن ٹینڈولکر اور ایم ایس دھونی کی طرح ملک کا نام دنیا بھر میں روشن کریں گے۔
