Cricket News

Vijay Shankar Joins Lanka Premier League Days After IPL Retirement – وجے شنکر نے آئی پی ایل سے ریٹائرمنٹ کے چند دن بعد لنکا پریمیئر لیگ میں شمولیت اختیار کر لی

Noor Fatima · · 1 min read
Share

لنکا پریمیئر لیگ (LPL) کا نیا سفر: وجے شنکر کی واپسی

کرکٹ کی دنیا میں ہلچل مچانے والی خبروں میں، وجے شنکر نے اپنی ڈومیسٹک اور آئی پی ایل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے کے محض چند دن بعد ہی لنکا پریمیئر لیگ (LPL) میں شمولیت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ 17 جولائی سے شروع ہونے والے اس ٹورنامنٹ کے چھٹے ایڈیشن کے لیے شائقین بے تاب ہیں، اور وجے شنکر کا کینڈی رائلز کے ساتھ معاہدہ اس لیگ کی رونقوں میں مزید اضافہ کرے گا۔

وجے شنکر کا کرکٹ کیریئر اور ریٹائرمنٹ

35 سالہ وجے شنکر نے 22 مئی کو آئی پی ایل اور ڈومیسٹک کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں جذباتی انداز میں کہا کہ، ‘کرکٹ میری زندگی ہے۔ میں نے 10 سال کی عمر میں کھیل شروع کیا تھا اور 25 سال بعد میں شکر گزار ہوں کہ مجھے ہر سطح پر، یہاں تک کہ اعلیٰ ترین سطح پر بھی کھیلنے کا موقع ملا۔’ شنکر نے مزید واضح کیا کہ وہ نئے مواقع تلاش کرنے اور مزید کرکٹ کھیلنے کے لیے یہ قدم اٹھا رہے ہیں۔

آئی پی ایل سے ایل پی ایل تک کا راستہ

وجے شنکر نے 2018-19 کے دوران بھارتی قومی ٹیم کی نمائندگی کی اور ون ڈے ورلڈ کپ کا بھی حصہ رہے۔ آئی پی ایل میں، انہوں نے 2014 میں چنئی سپر کنگز (CSK) کے لیے شروعات کی تھی۔ تاہم، ان کا حالیہ آئی پی ایل سیزن کافی مایوس کن رہا، جہاں وہ 5 اننگز میں صرف 118 رنز بنا سکے۔ اس کارکردگی کے بعد انہیں ریلیز کر دیا گیا اور وہ کسی بھی ٹیم کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

ایل پی ایل 2025: ایک نئی شروعات

لنکا پریمیئر لیگ کا چھٹا سیزن 17 جولائی سے شروع ہونے والا ہے، جس کے لیے پلیئرز ڈرافٹ کا انعقاد یکم جون کو ہونا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، 21 ممالک سے 650 سے زائد غیر ملکی کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کرائی ہے، جن میں سے 310 کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ شنکر کا کینڈی رائلز میں شمولیت اختیار کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اب عالمی لیگز جیسے کہ بی پی ایل، کینیڈا ٹی 20 لیگ اور ایم ایل سی میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے خواہشمند ہیں۔

بھارتی کھلاڑیوں اور بی سی سی آئی کے قوانین

یہ بات قابل غور ہے کہ بی سی سی آئی اپنے فعال کھلاڑیوں کو غیر ملکی لیگز میں کھیلنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ وجے شنکر جیسے کھلاڑیوں کو غیر ملکی ٹورنامنٹس میں حصہ لینے کے لیے اپنی مقامی کرکٹ سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینی پڑتی ہے۔ ماضی میں، صرف منوج پٹیل اور عرفان پٹھان جیسے چند بھارتی کرکٹرز ہی لنکا پریمیئر لیگ کا حصہ رہے ہیں۔

کولنگ آف پیریڈ کی بحث

وجے شنکر کا یہ فیصلہ بی سی سی آئی کے ‘کولنگ آف پیریڈ’ کے قوانین پر دوبارہ بحث چھیڑ رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل، بورڈ نے اس بات پر غور کیا تھا کہ کھلاڑیوں کو ریٹائرمنٹ کے ایک سال بعد تک غیر ملکی لیگز میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تاکہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے رجحان کو روکا جا سکے۔ بہرحال، شنکر کا یہ قدم فرنچائز کرکٹ کی دنیا میں کھلاڑیوں کی نقل و حرکت کے نئے دور کی شروعات ثابت ہو سکتا ہے۔

مستقبل کی توقعات

کرکٹ کے مبصرین کا خیال ہے کہ وجے شنکر جیسے تجربہ کار آل راؤنڈر کے ایل پی ایل میں شامل ہونے سے ٹورنامنٹ کا معیار بلند ہوگا۔ کینڈی رائلز کے مداحوں کو امید ہے کہ شنکر اپنی پرانی فارم واپس حاصل کریں گے اور ٹیم کو ٹائٹل جتوانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا دیگر بھارتی کھلاڑی بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے عالمی لیگز کا رخ کرتے ہیں یا نہیں۔

Avatar photo
Noor Fatima

Noor Fatima covers detailed player profiles, career milestones, and cricket biographies.