ویراٹ کوہلی اور امباتی رائیڈو: 2019 ورلڈ کپ کا تنازع اور تلخ یادیں
ورلڈ کپ 2019 کا وہ زخم جو آج بھی تازہ ہے
2019 کا آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ انڈین کرکٹ شائقین کے لیے جذباتی اور یادگار رہا ہے۔ لیگ مرحلے میں ٹیم انڈیا کی شاندار کارکردگی نے اسے ٹورنامنٹ کی مضبوط ترین ٹیم بنا دیا تھا، جس نے نو میں سے سات میچ جیت کر پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ ویراٹ کوہلی کی قیادت میں ٹیم ناقابلِ تسخیر نظر آ رہی تھی، تاہم سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست نے تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
اس شکست کے علاوہ، ایک اور تنازعہ ہے جو آج بھی شائقین کے ذہنوں میں تازہ ہے، اور وہ ہے امباتی رائیڈو کی ٹیم سے ڈراپنگ۔ برسوں بعد بھی کئی ماہرین اور سابق کرکٹرز کا ماننا ہے کہ رائیڈو ورلڈ کپ اسکواڈ میں جگہ بنانے کے حقدار تھے، اور اس فیصلے کے لیے اس وقت کی ٹیم مینجمنٹ، کپتان ویراٹ کوہلی اور ہیڈ کوچ روی شاستری کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔
امباتی رائیڈو اور ورلڈ کپ کا تنازعہ کیا تھا؟
ورلڈ کپ سے قبل، امباتی رائیڈو کو انڈیا کا مستقل نمبر 4 بلے باز مانا جاتا تھا۔ انہوں نے ون ڈے کرکٹ میں مستقل مزاجی سے رنز بنائے تھے اور ٹیم مینجمنٹ بارہا ان پر اعتماد کا اظہار کر چکی تھی۔ لیکن جب اسکواڈ کا اعلان ہوا، تو سلیکٹرز نے وجے شنکر کو رائیڈو پر ترجیح دی۔ چیف سلیکٹرز نے وجے شنکر کو ‘تھری ڈائمنشنل’ کھلاڑی قرار دے کر سب کو حیران کر دیا۔
اگرچہ ویراٹ کوہلی نے عوامی سطح پر کبھی امباتی رائیڈو کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا، لیکن بعد میں آنے والی رپورٹس نے یہ ظاہر کیا کہ کوہلی ایسے کھلاڑیوں کو ترجیح دیتے تھے جو زیادہ لچکدار ہوں اور آل راؤنڈ صلاحیتیں رکھتے ہوں۔
رائیڈو کی جذباتی جدوجہد اور آئی پی ایل کی کامیابی
امباتی رائیڈو نے بعد میں ایک شاندار آئی پی ایل کیریئر بنایا۔ 204 آئی پی ایل میچوں میں 4,348 رنز اسکور کرنے والے رائیڈو، روہت شرما کے ساتھ ان دو کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے چھ آئی پی ایل ٹائٹل جیتے ہیں۔ 2018 کا سیزن ان کے کیریئر کا بہترین سیزن تھا جس میں انہوں نے چنئی سپر کنگز کے لیے 602 رنز بنائے۔
اس تمام کامیابی کے باوجود، ورلڈ کپ نہ کھیلنے کا دکھ ان کے دل سے نہیں نکلا۔ ایک جذباتی انٹرویو کے دوران، رائیڈو نے اعتراف کیا کہ وہ ورلڈ کپ کے صرف ایک میچ کھیلنے کے موقع کے لیے اپنے تمام چھ آئی پی ایل ٹائٹل خوشی سے قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔
تنازعہ کیوں برقرار ہے؟
اس تنازعہ کے زندہ رہنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ رائیڈو کو ایک طویل عرصے تک ٹیم کا مستقل نمبر 4 بلے باز کے طور پر پیش کیا گیا تھا، لیکن عین ورلڈ کپ سے پہلے انہیں باہر کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف تکنیکی اعتبار سے بلکہ جذباتی طور پر بھی ایک بڑا دھچکا تھا۔
ویراٹ کوہلی نے شاید رائیڈو کی براہِ راست توہین نہ کی ہو، لیکن بطور کپتان وہ اس فیصلے کا چہرہ تھے، اور اسی لیے آج بھی انہیں اس فیصلے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رائیڈو کا حالیہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ فیصلہ ان کے لیے کتنا گہرا صدمہ تھا۔ یہ کہانی کرکٹ کے ان فیصلوں کی یاد دلاتی ہے جہاں اعداد و شمار سے زیادہ کھلاڑیوں کے جذبات داؤ پر لگ جاتے ہیں۔
آج، جبکہ امباتی رائیڈو حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن میں ایک اہم ذمہ داری سنبھال چکے ہیں، یہ بحث ایک بار پھر ان کی زندگی کے اس اہم موڑ کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں ایک غلط فیصلے نے ایک شاندار کھلاڑی کو ورلڈ کپ کے خواب سے محروم کر دیا۔
