وسیم جعفر کا اجیت اگرکر پر تنقید: محمد سامی کو نظر انداز کرنا ناقابل قبول
وسیم جعفر کا غصہ: محمد سامی کی سلیکشن پر سوالات
بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق بلے باز وسیم جعفر نے حال ہی میں افغانستان کے خلاف ون ڈے اور ٹیسٹ سیریز کے لیے اعلان کردہ ٹیم پر کھل کر تنقید کی ہے۔ ان کا بنیادی اعتراض تجربہ کار فاسٹ بولر محمد سامی کو نظر انداز کرنے پر ہے۔ اجیت اگرکر کی زیر قیادت سلیکشن پینل نے جب ٹیم کا اعلان کیا تو کئی فیصلے حیران کن تھے، تاہم سامی کا نام شامل نہ ہونا سب سے زیادہ موضوع بحث رہا۔
سلیکٹرز کی وضاحت اور وسیم جعفر کا ردعمل
چیئرمین سلیکٹرز اجیت اگرکر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ سامی کے حوالے سے انہیں جو اطلاعات ملی ہیں، اس کے مطابق وہ فی الحال صرف چار اوورز فی دن بولنگ کرنے کے لیے فٹ ہیں۔ اگرکر کے مطابق سامی کی موجودہ فٹنس صرف ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے موزوں ہے، اس لیے ان کے نام پر ٹیسٹ یا ون ڈے سیریز کے لیے کوئی بحث نہیں کی گئی۔
اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وسیم جعفر نے اپنے یوٹیوب چینل پر سخت الفاظ کا استعمال کیا۔ جعفر نے کہا، “یہ تو بکواس ہے۔ ایک کھلاڑی جس نے پورے سیزن میں 40 سے زائد وکٹیں لی ہوں، اس سے زیادہ وہ کیا کرے؟ ہم یہاں محمد سامی کی بات کر رہے ہیں، کوئی عام کھلاڑی نہیں۔”
ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی
وسیم جعفر نے مزید کہا کہ سامی نے نہ صرف ڈومیسٹک سیزن میں اپنی فٹنس ثابت کی بلکہ بنگال کو رانجی ٹرافی کے سیمی فائنل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جعفر کے نزدیک سلیکٹرز کا یہ کہنا کہ وہ صرف ٹی ٹوئنٹی کے لیے فٹ ہیں، محض ایک بہانہ ہے تاکہ انہیں سلیکشن سے دور رکھا جائے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر سلیکٹرز انہیں ٹیم میں نہیں دیکھنا چاہتے تو انہیں صاف صاف کہہ دینا چاہیے، بجائے اس کے کہ فٹنس کا بہانہ بنایا جائے۔
ڈبل سٹینڈرڈز کا الزام
جعفر نے سلیکشن کمیٹی پر ‘ڈبل سٹینڈرڈز’ کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے جسپریت بمراہ کی مثال دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا بمراہ کے ساتھ بھی یہی رویہ اپنایا جائے گا؟ وسیم جعفر نے واضح کیا کہ محمد سامی اسی معیار کے بولر ہیں اور بین الاقوامی بلے باز آج بھی انہیں دنیا کے بہترین بولرز میں شمار کرتے ہیں۔ انہوں نے سامی کی بھارتی کرکٹ کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا سلوک ایک عظیم کھلاڑی کے لیے تضحیک آمیز ہے۔
ٹیم میں دیگر تبدیلیاں
افغانستان کے خلاف سیریز کے لیے دیگر اہم فیصلوں میں روہت شرما اور ہاردک پانڈیا کی ون ڈے ٹیم میں شمولیت مشروط رکھی گئی ہے، جبکہ رویندر جڈیجہ کو ٹیسٹ سے آرام دیا گیا ہے اور ون ڈے ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح اکشر پٹیل اور جسپریت بمراہ کو بھی آرام دیا گیا ہے۔ ٹیم میں نئے چہروں کو موقع دینے کے ساتھ ساتھ رشبھ پنت کو ون ڈے فارمیٹ سے ڈراپ کر دیا گیا ہے، جبکہ کے ایل راہل کو ٹیسٹ ٹیم کا نائب کپتان بنایا گیا ہے۔ شبھمن گل دونوں ٹیموں کی قیادت برقرار رکھیں گے۔
نتیجہ
محمد سامی جیسے تجربہ کار کھلاڑی کو اس طرح ٹیم سے باہر کرنا یقیناً کرکٹ کے حلقوں میں بحث کا مرکز بنا رہے گا۔ وسیم جعفر کا یہ موقف کہ سامی کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، کئی شائقین کرکٹ کی آواز ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آنے والی سیریز میں بھارتی ٹیم سلیکٹرز کے ان فیصلوں کو درست ثابت کر پاتی ہے یا نہیں، کیونکہ ٹیم کی کارکردگی ہی ان تمام سوالات کا حتمی جواب ہوگی۔
