‘Predictable’ – GT’s bowling is ‘a bit like SRH’s batting,’ says Tom Moody – گجرات ٹائٹنز کی بولنگ کیوں پیشگوئی کے قابل بن گئی ہے؟ ٹام موڈی کا تجزیہ
گجرات ٹائٹنز کی بولنگ: ایک قابل پیشگوئی حکمت عملی؟
آئی پی ایل 2026 کے اہم کوالیفائر میچ کے دوران جب رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) کے ٹاپ آرڈر بلے بازوں نے کگیسو ربادا اور محمد سراج کے خلاف جارحانہ انداز اپنایا تو گجرات ٹائٹنز (GT) کی بولنگ پوری طرح بکھر گئی۔ دونوں فاسٹ بولرز نے اپنے سات اوورز کے اسپیل میں 100 رنز دیے، جو ان کی معمول کی کارکردگی سے کافی مایوس کن تھا۔
ٹام موڈی اور امباتی رائیڈو کا نقطہ نظر
لکھنؤ سپر جائنٹس کے گلوبل ڈائریکٹر آف کرکٹ، ٹام موڈی کا ماننا ہے کہ گجرات ٹائٹنز کی بولنگ اس وقت بے بس ہو جاتی ہے جب وکٹ پر کوئی حرکت نہ ہو۔ انہوں نے ای ایس پی این کرک انفو ٹائم آؤٹ پر بات کرتے ہوئے کہا، ‘جب سطح بالکل ہموار ہو اور گیند نہ تو سوئنگ ہو رہی ہو اور نہ ہی سیم، تب یہ بولرز مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے پاس پیس میں تغیرات یا دھوکہ دینے والی ڈیلیوریز کا فقدان ہے، جو انہیں ایک قابل پیشگوئی ٹیم بناتا ہے۔’
موڈی نے گجرات ٹائٹنز کی موازنہ سن رائزرز حیدرآباد کی بیٹنگ لائن اپ سے کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سن رائزرز مشکل پچز پر جدوجہد کرتے ہیں، اسی طرح گجرات ٹائٹنز کے بولرز ہموار پچز پر بے اثر ہو جاتے ہیں۔
کیا پلان بی کا فقدان ہے؟
امباتی رائیڈو نے مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جی ٹی کے پاس جب حالات ان کے حق میں نہ ہوں تو کوئی متبادل منصوبہ (Plan B) نہیں ہوتا۔ رائیڈو کے مطابق، ‘آپ صرف اسی وقت تک اچھے ہو سکتے ہیں جب تک آپ کا بنیادی پلان کام کرے۔ لیکن جب کوئی بلے باز آپ پر حاوی ہو جائے تو آپ کے پاس دفاعی بولنگ یا سست گیندوں کا وہ معیار نہیں ہوتا جو میچ کو کنٹرول میں رکھ سکے۔ گجرات کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یا تو وہ میچ پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں یا پھر اسے مکمل طور پر کھو دیتے ہیں۔’
دھرما شالا میں کیا غلط ہوا؟
میچ کے دوران آر سی بی نے پاور پلے میں 76 رنز بنا کر کھیل کا نقشہ بدل دیا۔ وینکٹیش آئیر، دیودت پڈیکل اور ویرات کوہلی کی جارحانہ بیٹنگ نے جی ٹی کے بولرز کو کوئی موقع نہیں دیا۔ اس شکست کے بعد یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ درست تھا؟
رائیڈو کا ماننا ہے کہ ایسی ٹیمیں جن کی اپنی حدود ہوں، انہیں اپنی طاقت کے مطابق کھیلنا چاہیے۔ ‘اگر آپ ایک پنچ نہیں مار سکتے لیکن آپ کک لگا سکتے ہیں، تو آپ کو صرف کک پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر آپ کی طاقت پہلے بیٹنگ کر کے بڑا اسکور کھڑا کرنا اور پھر اسے ڈیفینڈ کرنا ہے، تو آپ کو وہی کرنا چاہیے، بجائے اس کے کہ آپ حالات کے دباؤ میں آ کر اپنی حکمت عملی تبدیل کریں۔’
نتیجہ
گجرات ٹائٹنز کے لیے یہ ایک بڑا سبق ہے۔ احمد آباد کی پچز پر ‘قلعہ’ بنانے والی یہ ٹیم اب اس بات کا احساس کر رہی ہے کہ آئی پی ایل جیسے بڑے ٹورنامنٹ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی کے لیے صرف ایک طرح کی بولنگ کافی نہیں ہے۔ انہیں اپنی حکمت عملی میں تنوع، سست گیندوں کے بہتر استعمال اور دباؤ کے لمحات میں بہتر دفاعی پلان کی ضرورت ہے۔ مستقبل کے مقابلوں میں کامیابی کے لیے انہیں اپنی پیشگوئی کے قابل ہونے والی شناخت کو بدلنا ہوگا اور حالات کے مطابق ڈھلنے کا فن سیکھنا ہوگا۔
